اسوہء انسانِ کامل — Page 464
اسوہ انسان کامل 464 طبقہ نسواں پر رسول کریم کے احسانات عورتوں کا احترام رکھ پیش نظر وہ وقت بہن ! جب زندہ گاڑی جاتی تھی گھر کی دیوار میں روتی تھیں جب دُنیا میں تو آتی تھی جب باپ کی چھوٹی غیرت کا نوں جوش میں آنے لگتا تھا جس طرح جنا ہے سانپ کوئی یوں ماں تیری گھبراتی تھی یہ خونِ جگر سے پالنے والے تیرا خون بہاتے تھے جو نفرت تیری ذات سے تھی فطرت پر غالب آتی تھی کیا تیری قدر و قیمت تھی؟ کچھ سوچ !تری کیا عزت تھی؟ تھا موت سے بد تر و ہ جینا قسمت سے اگر بچ جاتی تھی عورت ہونا تھی سخت خطا، تھے تجھ پر سارے جبر روا یہ جرم نہ بخشا جا تا تھا تا مرگ سزائیں پاتی تھی کو یا تو کنکر پتھر تھی احساس نہ تھا جذ بات نہ تھے تو ہین وہ اپنی یا دتو کر ! ترکہ میں بانٹی جاتی تھی وہ رحمت عالم آتا ہے تیرا حامی ہو جا تا ہے کو بھی انساں کہلاتی ہے سب حق تیرے دلواتا ہے ان ظلموں سے چھڑوا تا ہے بھیج دُرود اُس محسن پر تو دن میں سوسو بار پاک محمد مصطفیٰ نبیوں کا سردار اس دور جہالت میں عورت کے ساتھ نفرت اور حقارت کے جذبات زائل کرنے کے لئے ہمارے آقا ومولا نے یہ بھی فرمایا کہ ”مجھے تمہاری دنیا کی جو چیزیں سب سے زیادہ عزیز ہیں ان میں اول نمبر پر عورتیں ہیں۔پھر ا چھی خوشبو مجھے محبوب ہے مگر میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز اور محبت الہی میں ہی ہے۔(نسائی) 10 ایک موقع پر نبی کریم نے یہ اظہار فرمایا کہ بالعموم عورتیں مرد کے مقابل پر ذہنی صلاحیتوں میں نقص کے باوجود ایسی استعداد میں رکھتی ہیں کہ مردوں پر غالب آجاتی ہیں۔نبی کریم نے عورتوں کی درخواست پر ان کی تعلیم و تربیت کے لئے ایک الگ دن مقر فر مایا تھا جس میں ان کو وعظ فرماتے اور ان کے سوالوں کے جواب دیتے تھے۔( بخاری )11