اسوہء انسانِ کامل — Page 445
اسوہ انسان کامل 445 اہلی زندگی میں رسول کریم کا بہترین نمونہ حضرت سودہ سے حسن سلوک حضرت سودہ بہت سادہ طبیعت کی تھیں۔وہ دین العجائز یعنی بوڑھیوں والا مسلک رکھتی تھیں یعنی نیکی اور بھلائی کی جو بات سنی اس پر مضبوطی سے جم گئیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا کہ یہ خری حج ہے اس کے بعد شائد ملاقات نہ ہو۔ظاہر ہے حضور کا اشارہ اپنی ذات سے تھا مگر حضرت سودہ اس کی ایسی لفظی پابندی فرماتی تھیں کہ نبی کریم کی وفات کے بعد اس ارشاد کی وجہ سے حج پر تشریف نہیں لے گئیں۔(زرقانی ) 16 سادگی کا یہ عالم تھا کہ جن دنوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں خبریں بیان فرما ئیں ، امت کو اس سے ڈرایا اور ابن صیاد کے بارہ میں دجال کا شبہ ظاہر فرمایا تو حضرت سودہ دجال کی باتیں سن کر اس سے سخت خوفزدہ ہوتی تھیں۔ایک دن جو یہ ذکر ہوا کہ دجال ظاہر ہو گیا ہے تو حضرت سودہ فوراً چار پائی کے نیچے جا چھپیں۔وہ اپنی سادہ لوحی کی ایسی باتوں سے نبی کریم کو بعض دفعہ خوب ہنساتی تھیں۔ایک دفعہ ان کو نبی کریم کے ساتھ رات کے وقت عبادت کرنے کا جو شوق ہوا تو حضور کے ساتھ نماز تہجد میں کھڑی ہو گئیں حضور نے اپنے معمول کے مطابق لمبی نماز پڑھی۔حضرت سودہ حضور کے ساتھ بمشکل ایک رکعت ہی ادا کر سکیں کیونکہ جسم خاصہ بھاری تھا۔بعد میں نبی کریم کی خدمت میں نہایت سادگی سے عرض کیا کہ رات میں نے آپ کے پیچھے تہجد کی نما ز شروع کی۔بس ایک رکعت ہی پڑھ سکی باقی تھک ہار کر چھوڑ دی کیونکہ مجھے تو نکسیر پھوٹ پڑنے کا خوف دامنگیر ہو چلا تھا۔( زرقانی) 17 ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے حریرہ بنایا جو حضرت سودھ کو پسند نہیں آیا۔حضرت عائشہ نے ان سے کھانے کے لئے اصرار کیا مگر وہ نہ مانیں حضرت عائشہ کو کیا سو بھی کہ اپنے محبت بھرے اصرار کے انکار پر وہ مالیدہ حضرت سودہ کے منہ پر لیپ کر دیا۔نبی کریم یہ دیکھ کر محفوظ بھی ہوئے مگر یہ عادلانہ فیصلہ فرمایا کہ حضرت سودۃ کو بدلہ لینے کا پوراحق ہے اور یہ چاہیں تو حضرت عائشہ کے منہ پر وہی مالیدہ مل سکتی ہیں۔حضرت سودہ نے بدلہ لیتے ہوئے مالیدہ حضرت عائشہ کے منہ پر مل دیا اور رسول اللہ یہ دیکھ کر مسکراتے رہے۔( ھیثمی ) 18 حضرت عائشہ کو حضرت سودہ کی مرنجاں مرنج سادہ اور صاف دل طبیعت بہت پسند تھی فرمایا کرتی تھیں کہ مجھے تمام لوگوں سے بڑھکر حضرت سودھ کی بھولی ادائیں ایسی بھلی معلوم ہوتی ہیں کہ بعض دفعہ انہیں اپنانے کو جی چاہتا ہے۔البتہ حضرت سودہ کی طبیعت میں کچھ تیزی بھی تھی مگر غصہ بہت جلد دور ہو جاتا تھا۔( زرقانی )19 شادی کے کچھ عرصہ بعد حضرت سودہ نے اپنے بڑھاپے اور بیماری کے باعث محسوس کیا کہ گھریلو ذمہ داریوں کی ادا ئیگی ان پر بوجھ ہے۔اور ازدواجی تعلق کی انہیں حاجت نہیں رہی مگر یہ دلی تمنا ضرور تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے با برکت عقد تا دم حیات قائم رہے۔انہوں نے از خود نبی کریم کی خدمت میں درخواست کی کہ مجھے دیگر از واج سے مقابلہ