اسوہء انسانِ کامل — Page 444
اسوہ انسان کامل 444 اہلی زندگی میں رسول کریم کا بہترین نمونہ بہت قدر فرماتے تھے۔چنانچہ حضرت خدیجہ کے ایثار و فدائیت اور وفا کی ان کی زندگی میں بھی ہمیشہ پاسداری کی۔اور وفات کے بعد بھی کئی سال تک آپ نے دوسری بیوی نہیں کی۔ہمیشہ محبت اور وفا کے جذبات کے ساتھ حضرت خدیجہ کا محبت بھرا سلوک یاد کیا۔آپ کی ساری اولا د حضرت خدیجہ کے بطن سے تھی اس کی تربیت و پرورش کا آپ نے خوب لحاظ رکھا۔نہ صرف ان کے حقوق ادا کئے بلکہ حضرت خدیجہ کی امانت سمجھ کر ان سے کمال درجہ محبت فرمائی۔آپ دیتی ہے حضرت خدیجہ کی بہن ہالہ کی آواز کان میں پڑتے ہی کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے اور خوش ہو کر فرماتے خدیجہ کی بہن ہالہ آئی ہیں۔گھر میں کوئی جانور ذبح ہوتا تو اس کا گوشت حضرت خدیجہ کی سہیلیوں میں بھجوانے کی تاکید فرماتے۔( مسلم )12 الغرض آپ حضرت خدیجہ کی وفاؤں کے تذکرے کرتے تھکتے نہ تھے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں ” مجھے نبی کریم کی کسی دوسری زندہ بیوی کے ساتھ اس قدر غیرت نہیں ہوئی جتنی حضرت خدیجہ سے ہوئی حالانکہ وہ میری شادی سے تین سال قبل وفات پا چکی تھیں۔( بخاری 13 فرماتی تھیں کہ کبھی تو میں اُکتا کر کہ دیتی یا رسول اللہ۔خدا نے آپ کو اس قدر اچھی اچھی بیویاں عطا فرمائی ہیں اب اس بڑھیا کا ذکر جانے بھی دیں۔آپ فرماتے نہیں نہیں۔خدیجہ اس وقت میری ساتھی بنی جب میں تنہا تھا وہ اس وقت میری سپر بنی جب میں بے یار و مددگار تھا۔وہ اپنے مال کے ساتھ مجھ پر فدا ہو گئیں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے اولاد بھی عطا کی۔انہوں نے اس وقت میری تصدیق کی جب لوگوں نے جھٹلایا۔(مسند احمد ) 14 حضرت سودہ سے شادی حضرت خدیجہ جیسی وفا شعار ساتھی اور مشیر وزیر کی وفات سے نبی کریم کوسخت صدمہ پہنچا تھا۔اسی سال آپ کے چا ابو طالب کی بھی وفات ہوئی تھی۔یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں یہ سال عام الحزن کے نام سے مشہور ہے۔یہ دونوں با برکت وجود ہمارے آقا و مولاً کیلئے ظاہری تسکین اور ڈھارس کا موجب ہوتے تھے ان کی جدائی سے پیدا ہو نیوالے خلاء کے نیتجے میں آپ کی تنہائی اور اداسی ایک طبعی امر تھا جسے آپ کے قریبی ساتھی بشدت محسوس کرتے تھے۔اس خلاء کا پر کیا جانا مسلمانوں کی قومی زندگی کے لئے بہت اہم تھا۔اللہ تعالیٰ حضرت خولہ بنت حکیم کو جزا عطا فرماتا رہے۔جنہوں نے مسلمانوں کی نمائندہ بن کر رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد آپ بہت تنہا اداس ہو گئے ہیں آپ نے فرمایا ہاں خر وہ میرے بچوں کی ماں تھیں اور گھر کی مالکہ۔( زرقانی 15 ) اس پر حضرت ام حکیم نے شادی کی تحریک کرتے ہوئے بعض رشتے بھی تجویز کئے۔نبی کریم نے نسبتاً ایک معمر بیوہ خاتون حضرت سودہ کی تجویز پسند کرتے ہوئے انہیں عقد میں لینا قبول فرمایا، تا کہ وہ حضور کے گھر میلو انتظام اور آپ کی نو عمر صاحبزادیوں کی کفالت کے اہتمام میں ممد و معاون ہوں۔