اسوہء انسانِ کامل — Page 416
اسوہ انسان کامل 416 جنگوں میں رسول اللہ ﷺ کی حکمت عملی آج جنگ و جدال کا دن ہے آج کعبہ کی حرمت کا بھی لحاظ نہیں کیا جائے گا۔(بخاری)21 ابوسفیان نے شکایت کی تو نبی کریم ﷺ نے اپنے اس کمانڈر کو (جو ایک طاقتور قبائلی سردار تھا ) معزول کر دیا کہ اس نے حرمت کعبہ کے بارے میں ایک نا حق بات کہی تھی اور جنگ کی دھمکی سے ابوسفیان کا دل دُکھایا۔(ابن ھشام ) 22 ساتھ ہی کمال حکمت سے دوسرا حکم یہ صادر فرمایا کہ سعد کی بجائے سالار فوج ان کے بیٹے قیس بن سعد کو مقرر کیا جاتا ہے۔(حلبیہ ( 23 اور یوں ہر قبائلی خلفشار کی پیش بندی بھی فرما دی۔فتح مکہ پر دلوں کی فتح اور بلال کا انتقام فتح مکہ کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوچا آج اپنے غلام بلال کا انتقام لینا بھی ضروری ہے۔بلال جو کبھی مکہ کی گلیوں میں ذلت اور اذیت کا نشان رہ چکا تھا۔اسے اہل مکہ کے لئے ابوسفیان کی طرح امن کی علامت قرار دے کر آپ نے غلام کو سر دار مکہ کے برابر کھڑا کر دیا اور ابوسفیان کے گھر میں امان کی منادی کے ساتھ یہ اعلان بھی کروایا کہ جو بلال کے جھنڈے نیچے آ گیا اسے بھی امان ہوگی۔اور یوں آپ نے اپنے جانی دشمنوں اور قاتلوں کے لئے بھی فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان کر کے ان کے دل جیتنے کی راہ نکال لی۔بلال کے دشمنوں کو بھی معاف کر دیا اور بلال کے جذبات کا بھی خیال رکھا۔مکہ کی حقیقی فتح تو دراصل آپ کے خلق عظیم کی فتح تھی کہ کفار نے بھی آپ کے اس سوال پر کہ تم سے کیا سلوک کیا جائے یہی کہا کہ ہمیں آپ سے نیک سلوک کی امید ہے اور رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ان کی توقعات سے کہیں بڑھ کر ان سے حسن سلوک کرتے ہوئے فرمایا کہ جاؤ تم سب آزاد ہو صرف میں ہی تمہیں معاف نہیں کرتا بلکہ اپنے رب سے بھی تمہارے لئے عفو کا طلب گار ہوں۔( ابن ھشام ) 24 مشہور مستشرق شین لے پول کے بقول جس دن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دشمنوں پر فتح حاصل ہوئی وہی دن آپ کی اپنے نفس پر فتح حاصل کرنے کا دن تھا۔جب آپ نے قریش کے سالہا سال کے ظالمانہ مصائب سے درگزر کرتے ہوئے تمام باشندوں کو ایک عام معافی نامہ دے دیا۔‘ ( انتخاب قرآن ) 25 امر واقع یہ ہے کہ اس عفو عام کے نتیجہ میں اپنے اپنے دشمنوں اور نفس پر ہی فتح حاصل نہیں کی بلکہ ان کے دلوں پر بھی فتح حاصل کی جیسا کہ سرولیم میور کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ محمد نے جلد ہی اس کا انعام بھی پالیا اور وہ یوں کہ آپ کے وطن کی ساری آبادی صدق دل سے آپ کے ساتھ ہو گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم چند ہفتوں میں دو ہزار مکہ کے باسیوں کو مسلمانوں کی طرف سے (حنین میں ) لڑائی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔“ ( میور (26