اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 352 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 352

352 رسول اللہ کا استقلال اور استقامت اسوہ انسان کامل سرداروں نے ایسی قسمیں کھائی ہیں۔ان میں سے ہر ایک شخص آپ کے خون کا پیاسا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے میری بیٹی مجھے ذرا وضو کا پانی دینا۔پھر آپ وضو کر کے بیت اللہ تشریف لے گئے، جہاں وہ سب سردار براجمان تھے۔آپ کو دیکھتے ہی وہ سب بیک زبان ہو کر بولے لو وہ آگیا مگر کسی کو کھڑا ہو کر حملہ کرنے کی جرات نہ کود ہو ہوکرحملہ ہوئی۔سب کی آنکھیں جھک گئیں اور کوئی بھی اپنی جگہ سے ہل نہ سکا حتی کہ آپ کی طرف آنکھ تک اٹھانے کی جرات کسی کو نہ ہوسکی۔تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کی طرف متوجہ ہوئے اور جاکر ان کے پاس کھڑے ہو گئے ، عین ان کے سروں کے اوپر۔آپ نے مٹی کی ایک مٹھی بھر کر اُن کی طرف پھینکی اور بآواز بلند فرمایا شَاهَـتِ الوُجُوهُ» (یعنی رسوا ہو گئے چہرے ) ابن عباس کہتے ہیں ان سردارانِ قریش میں سے جس تک بھی وہ خاک پہنچی وہ بدر کے روز قتل ہو کر ہلاک ہوا۔“ ( بیہقی )22 ایک دفعہ ابو جہل نے کہا کہ اگر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں تو آپ کی گردن دبوچ کے رکھ دوں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عجب جلال کے ساتھ فرمایا اگر وہ ایسا کرے گا تو فوراً فرشتے آکر اس پر گرفت کریں گے۔( بخاری ) 23 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آزادی سے خدا کی عبادت کرنے کی بھی اجازت نہ تھی۔آپ عبادت کرتے ہوئے بھی اذیتوں کا نشانہ بنائے گئے۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ابو جہل اور اس کے ساتھی وہاں بیٹھے تھے۔ان میں ایک دوسرے سے کہنے لگا تم میں سے کون ہے جو فلاں قبیلے میں ذبح ہونے والی اونٹنی کی بچہ دانی اٹھالائے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پشت پر اس وقت رکھ دے جب وہ سجدہ کرے۔تب لوگوں میں سے بد بخت انسان عقبہ بن ابی معیط اٹھا اور وہ اونٹنی کی بچہ دانی اٹھالایا اور دیکھتار ہا جب نبی کریم نے سجدہ کیا تو اس نے وہ گند بھری بچہ دانی آپ کے کندھوں پر رکھ دی۔عبداللہ بن مسعودؓ ( جو ایک کمزور قبیلہ کے فرد تھے ) کہتے ہیں، میں یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی ان سرداروں کی موجودگی میں رسول اللہ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا۔اے کاش ! مجھے بھی طاقت حاصل ہوتی اور میں آپ کے لئے کچھ کر سکتا۔ادھر سر داران قریش رسول اللہ کی یہ حالت زار دیکھ کر ہنتے ہوئے لوٹ پوٹ ہوکر ایک دوسرے پر گر رہے تھے۔رسول اللہ مسجدہ کی حالت میں پڑے ہوئے سر نہ اٹھا سکتے تھے۔یہاں تک کہ حضرت فاطمہ آئیں اور انہوں نے آپ کی پشت سے وہ گند ہٹایا تو آپ نے سراٹھایا اور فرمایا اے اللہ ! تو قریش پر گرفت کر۔( بخاری ) 24 انتہائی ایذارسانی پر استقامت عمر و حضرت عثمان سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ نبی کریم ﷺ کو قریش سے پہنچنے والی اذیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہنے لگے کہ قریش نے رسول اللہ کو بہت ہی ایذائیں دیں۔عمرو کہتے ہیں کہ یہ کہہ کر وہ تکالیف یا دکر کے حضرت عثمان کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔پھر کچھ سنبھل کر اپنا چشم دید واقعہ بیان کرنے لگے کہ ایک دفعہ رسول کریم خانہ کعبہ