اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 253 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 253

اسوہ انسان کامل قریش کا پہلا وفد 253 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلامیہ تبلیغ کے مثبت اثرات دیکھ کر قریش کے بعض شرفاً اور سردارا بوطالب سے ملے اور کہا کہ آپ کا بھتیجا ہمارے دین کو قابل اعتراض ہمیں بے عقل اور ہمارے آباء واجداد کو گمراہ قرار دیتا ہے۔یا تو اسے ان باتوں سے روکیں یا اس کا ساتھ چھوڑ دیں تا کہ ہم خود اس سے نبٹ لیں۔ابوطالب نے ان سے نرمی سے بات کی اور انہیں سمجھا بجھا کر واپس کر دیا۔دوسر اوفد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کام جاری رکھا یہاں تک کہ قریش میں آپ کا زیادہ چرچا ہونے لگا تو قریش کا دوسرا وفدا بوطالب کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا آپ ہمارے بزرگ ہیں اور قدرومنزلت رکھتے ہیں۔ہم نے آپ سے اپنے بھتیجے کو روکنے کے لئے کہا مگر آپ نے ہماری بات نہیں مانی اب ہم اس حالت پر صبر نہیں کر سکتے۔آپ یا تو اسے اپنے دین کی تبلیغ اور ہمارے معبودوں کی مخالفت سے روکیں یا پھر ہم آپ کے ساتھ اُس وقت تک مقابلہ کریں گے جب تک کہ ایک فریق ہلاک ہو جائے۔ابوطالب کے لئے اب نہایت نازک موقع تھا۔وہ سخت ڈر گئے۔اُسی وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا۔جب آپ آئے تو اُن سے کہا کہ اے میرے بھتیجے ! اب تیری باتوں کی وجہ سے قوم سخت مشتعل ہو گئی ہے اور قریب ہے کہ تجھے ہلاک کر دیں اور ساتھ ہی مجھے بھی۔تو نے ان کے عقلمندوں کو سفیہ ( کم عقل ) قرار دیا۔اُن کے بزرگوں کو شَرُّ الْبَرِيَّة کہا۔ان کے قابل تعظیم معبودوں کا نام ہیزم جہنم اور وقــود الـنـار رکھا اور خود انہیں رجس اور پلید ٹھہرایا۔میں تجھے خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ اس دشنام دہی سے اپنی زبان کو تھام لو اور اس کام سے باز آجاؤ، ورنہ میں تمام قوم کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم نے سمجھ لیا کہ اب ابو طالب کا پائے ثبات بھی لغزش میں ہے اور دنیاوی اسباب میں سے سب سے بڑا سہارا مخالفت کے بوجھ کے نیچے دب کر ٹوٹا چاہتا ہے مگر آپ کے ماتھے پر بل تک نہ تھا۔نہایت اطمینان سے فرمایا۔چا یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو وہ کام ہے جس کے واسطے میں بھیجا گیا ہوں کہ لوگوں کی خرابیاں اُن پر ظاہر کر کے اُنہیں سیدھے رستے کی طرف بلاؤں اور اگر اس راہ میں مجھے مرنا در پیش ہے تو میں بخوشی اپنے لئے اس موت کو قبول کرتا ہوں۔میری زندگی اس راہ میں وقف ہے اور میں موت کے ڈر سے اظہار حق سے رُک نہیں سکتا اور اے چا! اگر آپ کو اپنی کمزوری اور تکلیف کا خیال ہے تو آپ بیشک مجھے اپنی پناہ میں رکھنے سے دستبردار ہو جائیں مگر میں احکام الہی کے پہنچانے سے کبھی نہیں رکوں گا اور خدا کی قسم ! اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ میں چاند بھی لا کر دے دیں تب بھی میں اپنے فرض سے باز نہیں رہوں گا اور میں اپنے کام میں لگا