اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 249 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 249

اسوہ انسان کامل 249 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ مکہ کے نواحی قبائل میں اسلام رسول اللہ کے دعوی کی خبر مخالفت کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ مکہ کے ارد گرد کے قبائل میں پہنچنے لگی۔شریف اور سعادت مند لوگ آپ کی دعوت پر توجہ دینے لگے۔انہیں میں سے ایک سردار اکثم بن صیفی تھے جنہوں نے دعوے کی اطلاع سن کر خود حضور کی خدمت میں حاضر ہونا چاہا مگر ان کی قوم نے اسے روک دیا۔تب انہوں نے اپنے نمائندے حضور کی خدمت میں بھجوائے جنہوں نے آکر آپ کے دعوی کی بابت پوچھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔پھر انہیں آیت اِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ (سورۃ النحل: 91) پڑھ کر سنائی۔جو اسلام کی پاکیزہ تعلیم عدل و احسان پر مشتمل ہے۔انہوں نے بار بارن کر یہ آیات یاد کرلیں۔واپس جا کر اکٹم کو آپ کی خاندانی شرافت اور پاکیزہ تعلیم کے بارہ میں بتایا جسے سن کر اکٹم کہنے لگا "اے میری قوم ! یہ شخص تو نہایت اعلیٰ درجے کے اخلاق کی تعلیم دیتا ہے اور بڑی باتوں سے روکتا ہے۔پس تم اسے ماننے میں پہل کر لو کہیں پیچھے نہ رہ جاؤ۔چنانچہ اپنے قبیلہ کے ایک سو افراد ساتھ لے کر وہ حضور سے ملاقات کیلئے روانہ ہوا۔راستہ میں اس کی وفات ہوگئی۔اس نے اپنے ساتھیوں کو رسول اللہ پر ایمان لانے کی وصیت کی اور انہیں گواہ پھہرایا کہ وہ مسلمان ہو چکا ہے۔( ابن الجوزی (14) یوں اسلام کا پیغام مکہ کے نواحی قبائل میں نفوذ کر نے لگا۔قبیلہ بنوغفار کے ابوذر کو بھی اسی طرح اسلام کی اُڑتی ہوئی مخالفانہ خبریں پہنچیں۔انہوں نے اپنے بھائی کو تحقیق کے لئے بھجوایا اور کہا کہ جا کر اس دعویدار نبوت کا کلام سنو جس کے پاس آسمانی خبریں آتی ہیں۔بھائی نے واپس آکر بتایا کہ وہ نبی نہایت عمدہ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے اور اس کا کلام شاعری سے مختلف ہے۔ابوذر کی پھر بھی تسلی نہیں ہوئی اور وہ خود کچھ زادراہ لے کر تحقیق کے لئے مکہ آئے۔پہلے تو بیت اللہ میں آکر رسول اللہ کو ڈھونڈتے پھرے، کسی سے پوچھنا پسند نہ کیا۔رات کو بیت اللہ میں ہی لیٹ گئے۔حضرت علی نے انہیں دیکھ کر بھانپ لیا کہ یہ کوئی اجنبی مسافر ہے اور انہیں اپنے ساتھ گھر لے جا کر رات بسر کرنے کا انتظام کر دیا۔پھر اُن کا یہی معمول ٹھہر گیا کہ دن کو خانہ کعبہ آجاتے اور رات حضرت علی کے گھر بسر کرتے۔تیسرے دن حضرت علی نے پوچھ ہی لیا کہ یہاں کیسے آنا ہوا؟ حضرت ابوذر نے صحیح راہنمائی کرنے کا پختہ عہد لے کر اپنا مقصد ظاہر کیا۔حضرت علی نے انہیں بتایا کہ حمد واقعی اللہ کے رسول ہیں۔صبح حضرت علی نے انہیں نہایت خاموشی اور اخفاء کے ساتھ رسول اللہ کے پاس پہنچا دیا۔ابوذر نے رسول اللہ کی گفتگوسن کر اسلام قبول کر لیا۔نبی کریم نے ان سے فرمایا کہ اپنی قوم کی طرف واپس جاؤ اور انہیں تبلیغ کرو یہاں تک کہ میرا اگلا حکم آپ کو پہنچے۔ابوذر کہنے لگے پہلے تو میں مشرکین مکہ کے سامنے قبول اسلام کا اعلان کرونگا۔چنانچہ بیت اللہ جا کر انہوں نے بآواز بلند پڑھا۔اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ واشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَّسُولُ اللهِ