اسوہء انسانِ کامل — Page 233
233 آنحضرت کی صحابہ سے محبت اور صحابہ کا عشق رسول اسوہ انسان کامل زیڈ کا والد ان کی تلاش میں رسول اللہ کے پاس پہنچا اور انہیں آزاد کرنے کی درخواست کی۔رسول اللہ نے زید کو بلا کے فرمایا کہ اے زیڈ تجھے اختیار ہے چاہو تو میرے پاس رہو، چاہو تو اپنے والدین کے ساتھ وطن واپس چلے جاؤ۔زید کا یہ جواب عشق و محبت کی دنیا میں ہمیشہ یادر ہے گا کہ ”میرے آقا! میں آپ کی بجائے کسی دوسرے کے ساتھ جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔اب آپ ہی میرے مائی باپ ہیں۔( ابن سعد ) 33 خدام سے مشفقت رسول کریم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو ایک خادم کی ضرورت محسوس ہوئی۔حضرت ام سلیم اور ابوطلحہ نے اپنے بیٹے کولا کر پیش کر دیا کہ حضور ! یہ بچہ انس آپ کی خدمت کرے گا۔( بخاری 34 ) والدین کی طرح لاڈ اور پیار کی خاطر حضور انس کو بیٹا اور ائیں“ کہ کر پکارتے کبھی ازراہ مذاق بالاذنين یعنی دوکانوں والا کہ کر یاد فرماتے۔(ترمذی)35 رسول اللہ ﷺ نے ان کے حق میں دعا کی تھی کہ اے خدا انس کے مال و اولاد میں برکت دے اور اسے جنت میں داخل کرنا ! ( بخاری ) 36 حضرت انس خادم رسول کے مبارک لقب سے یاد کئے جانے لگے۔وہ اس پر فخر کیا کرتے تھے، کیوں نہ کرتے در نبوی کی گدائی سے بڑھ کر فخر کا کیا مقام ہو گا۔حضرت انسؓ نے اس تعلق کی بدولت دینی ودنیاوی برکات حاصل کیں۔حضرت انس کو آنحضرت ﷺ سے غایت درجہ عشق اور محبت تھی۔آپ کے پاس رسول اللہ کے تبرکات میں سے ایک موئے مبارک تھا۔بوقت وفات وصیت کی کہ میرے آقا کا یہ بال میری زبان کے نیچے رکھ دینا۔رسول اللہ کی یادگا ر ایک چھڑی بھی آپ کے پاس تھی۔آپ کی وصیت کے مطابق یہ بھی آپ کے پہلو میں دفن کی گئی۔سبحان اللہ! محبوب کی جو ٹے بھی میسر تھی اس سے بوقت وفات بھی جدائی گوارا نہ تھی تو رسول اللہ کی جدائی ان پر کیسی شاق گزری ہوگی۔وفات رسول کے بعد آپ اکثر دیوانہ و بے خود ہو جاتے اور کیوں نہ ہوتے اگر حستان کی آنکھوں کی پتلی نہ رہی تھی تو انس کا نور نظر بھی تو جاتا رہا تھا۔اسی حد درجہ محبت کا نتیجہ تھا کہ اکثر خواب میں ”خادم رسول اپنے آقا سے ملاقات کیا کرتا۔آقا کی باتیں سناتے تو الفاظ میں نقشہ کھینچ کر رکھ دیتے۔حضرت انس کے اس خادما نہ تعلق کو صرف وفات رسول ہی جدا کرسکی۔حضرت اسامہ بھی رسول اللہ کے آزاد کردہ غلام زیڈ کے بیٹے تھے اور جب رسول“ یعنی رسول اللہ کے محبوب کہلاتے تھے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسامہ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہے سوائے ( میری بیٹی ) فاطمہ کے۔خود اسامہ کہتے ہیں کہ آنحضرت یہ انہیں اور حضرت حسین کو دونوں رانوں پر بٹھا لیتے اور فرماتے۔”اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما۔( بخاری 37 ) رسول اللہ نے آخری بیماری میں رومیوں کے خلاف جولشکر