اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 148 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 148

148 رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز اسوہ انسان کامل میری امت کا والی یا حاکم ہو اور اُن پر سختی یا زیادتی کرے تو تو خود اس سے بدلہ لینا اور اُس سے ایسا ہی سلوک کرنا اور جو والی یا حاکم میری امت سے نرمی کا سلوک کرے تو تو بھی اس کے ساتھ نرمی کا سلوک فرمانا۔( احمد )86 رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی امت کے ساتھ جو محبت تھی اس کا ایک اظہار آپ نے اپنی شبانہ روز دعاؤں سے بھی کیا۔جب آپ مہجرت کر کے مدینہ تشریف لے آئے تو اس وقت کئی کمزور مسلمان ایسے تھے جو مکہ میں رہ گئے۔وہ مختلف وجوہ سے ہجرت نہ کر سکتے تھے اور مکہ میں اذیتیں برداشت کر رہے تھے۔آپ کے دل میں اپنے ان کمزور بھائیوں کیلئے جو درد تھا اس کا اندازہ آپ کی دعاؤں سے کیا جاسکتا ہے، ایک زمانہ تک آپ اپنے ان مظلوم مریدوں کے نام لے لے کر عشاء کی نماز میں دعا کرتے۔”اے اللہ ! عیاش بن ابی ربیعہ (ابو جہل کے بھائی ) کو کفار مکہ سے نجات دے، اے اللہ ! ولید بن ولیڈ کو ان سے رہائی دے، اے اللہ سلمہ بن ہشام کو مشرکوں کے ظلم سے بچا ، اے اللہ ! سب کمزور مسلمانوں (مومنوں) کی نجات کے سامان فرما پھر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو دشمنوں سے نجات دی۔( بخاری )87 حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ نبی کریم نے سورۃ ابراہیم کی آیات 36,37 کی تلاوت کی جن میں اپنی اولاد کے شرک سے بچنے اور ساری قوم کے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا ہے۔پھر حضرت عیسی علیہ السلام کی یہ قرآنی دعا اپنی قوم کی بخشش کے بارہ میں پڑھی کہ اے اللہ اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر ان کو بخش دے تو تو غالب اور حکمت والا ہے۔(سورۃ مائدہ : 119) پھر آپ کے دل میں اپنی امت کے لئے دعا کا جوش پیدا ہوا تو ہاتھ اُٹھائے اور یوں دعا کی اے اللہ میری امت کو بھی بخش دے۔میری امت پر رحم کیجیو اور یہ کہتے کہتے آپ رونے لگے تب اللہ تعالیٰ نے جبریل سے فرمایا کہ محمد سے جا کر پوچھو ( حالانکہ اللہ تعالیٰ آپ کی حالت کو خوب جانتا تھا کہ ان کے رونے کا کیا سبب ہے؟ ) جبریل نے آکر پوچھا تو رسول اللہ نے اپنی امت کے بارہ میں رحم کی بھیک مانگی۔تب خدا کی رحمت بھی جوش میں آئی اور جبریل سے کہا کہ جا کر محمد سے کہہ دو کہ ہم آپ کو آپ کی امت کے بارے میں راضی کریں گے اور نا خوش نہیں کریں گے۔(مسلم ) 88 الغرض اللہ تعالیٰ نے رسول کریم کو قبولیت دعا کے ہر قسم کے نشان عطا فرمائے اور اس کثرت سے آپ کی دعائیں بنی نوع انسان کے حق میں قبول ہوئیں کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔رسول کریم کے پاکیزہ اسوہ پر عمل کے نتیجہ میں آج بھی ہر صاحب ایمان یہ برکات حاصل کر سکتا ہے۔