اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 135 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 135

اسوہ انسان کامل 135 رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز جگہ ہلاک ہو کر گریں گے ان کی جگہ میں دیکھ رہا ہوں۔( بیشمی ) 40 (8) غزوہ احزاب کی فتح بھی دراصل رسول اللہ دعاؤں کی فتح تھی۔جب مدینہ کی چھوٹی سے بستی پر چاروں طرف ہزاروں کی تعداد میں مسلح شکر چڑھ آئے اور محصور مسلمان سخت سردی کے ایام میں ، ناکافی غذائی ضروریات کے باعث سخت پریشان تھے۔صحابہ رسول نے بھوک کا مقابلہ کرنے کیلئے پیٹوں پر پتھر باندھ لئے اور خود رسول خدا کے پیٹ پر دو پتھر تھے۔وہ جنگ صرف ایک اعصاب شکن جنگ ہی نہ تھی بلکہ مسلمانوں کی زندگی پر ہولناک ابتلا تھا جس کا سچا نقشہ اور صاف تصویر قرآن شریف نے یوں کھینچی ہے۔”جب دشمن اوپر سے بھی چڑھ آئے تھے اور نیچے سے بھی اور آنکھیں پتھرا گئیں اور دل مارے خوف کے اچھل کر گلوں تک آرہے تھے اور مومنوں کو خدا کے وعدوں پر طرح طرح کے گمان آنے لگے۔جہاں مومن خوب آزمائے گئے اتنے کہ ان کی زندگیوں پر ایک شدیدا اور خوفناک زلزلہ کی کیفیت طاری ہوگئی اور وہ ہلائے گئے بلکہ جھنجھوڑ کر رکھ دئے گئے۔(سورۃ الاحزاب 11,12 ) ان نازک حالات میں جب شہر مدینہ زندگی اور موت کی کش مکش میں تھا۔مدینہ میں ایک وجود ایسا بھی تھا جو اپنے موٹی پر کمال یقین اور توکل کے ساتھ ان دعاؤں میں مصروف تھا۔اللهُم مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمِ الْأَحْزَابَ اللَّهُمَّ اهْزِ مُهُمُ وَزَلْزِلَهُمْ۔اے میرے مولی ! اپنی پاک کتاب کو نازل کرنے والے اور جلد حساب لینے والے ! عرب کے ان تمام لشکروں کو پسپا کر دے ان کو شکست فاش دے اور ہلا کر رکھ دے۔اس دعا کے نتیجہ میں اچانک ایک خوفناک آندھی نمودار ہوئی جس نے عربوں کی آگیں بجھا دیں۔وہ محاصرہ چھوڑ کر سخت افراتفری کے عالم میں بھاگے اور ایسے بھاگے کہ سر پیر کا ہوش نہ رہا۔لشکر کفار کا سردار ابوسفیان اپنے اونٹ کا گھٹنا تک کھولنا بھول گیا اور بندھے ہوئے اونٹ پر سوار ہو کر اسے بھگانا چاہا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موقع پر دعاؤں کی قبولیت کے معجزہ کا ذکر کرتے ہوئے بے اختیار یہ کہہ اٹھے۔لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ اَعَزَّ جُندَه وَ نَصَرَ عَبْدَهُ وَغَلَبَ الْاَحْزَابَ وَحْدَهُ فَلَا شَيء بَعْدَه (بخاری) 41 کہ اس خدا کے سوا کوئی معبود نہیں جس نے اپنے گروہ کو عزت دی۔اپنے بندے کی نصرت فرمائی اور خود ہی تمام لشکروں پر غالب آیا۔سب کچھ وہی ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔(9) غزوہ خیبر کا عظیم معرکہ بھی ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفے یہ کی دعاؤں کا ثمرہ تھا۔جب مسلسل کئی روز مختلف جرنیلوں کی سرکردگی میں ترتیب دیئے گئے لشکر خیبر کے قلعوں کو فتح نہ کر سکے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعاؤں میں لگ گئے ، تب یہ واقعہ ہوا کہ خیبر کے محاصرہ کی ساتویں رات حضرت عمرؓ کے حفاظتی دستے نے ایک یہودی جاسوس کو اسلامی لشکر کے قریب گھومتے ہوئے گرفتار کر لیا۔اسے رسول کریم کی خدمت میں لے آئے۔اس وقت بھی