اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 105 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 105

اسوہ انسان کامل 105 ذکر الہی اور حمد و شکر میں اسوہ رسول ذکر الہی اور حمد وشکر میں اسوہ رسول کہتے ہیں کہ انسان جس چیز سے محبت کرتا ہے اس کا بہت ذکر کرتا ہے اور ہمارے نبی حضرت محمدؐ کی تو پہلی اور آخری محبت اللہ تعالیٰ کی ذات سے تھی۔عین عالم جوانی میں آپ دنیا کی دلچسپیوں سے بیزار غار حراء کی تنہائیوں میں جا کر اس محبوب حقیقی کوہی تو یاد کرتے تھے۔اس میں آپ کی زندگی کا سارا لطف تھا۔آپ کی یہ وارفتگی دیکھ کر اہل مکہ بھی کہتے تھے کہ محمد تو اپنے رب پر عاشق ہو گیا ہے۔مگر امر واقعہ یہ ہے آپ فنافی اللہ کے اس مقام پر تھے جہاں انسان اپنا وجود بھی فراموش کر بیٹھتا ہے اور محویت کے اس عالم میں صرف اللہ کی یاد باقی رہ جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ کی روایت کے مطابق نبی کریم ہر لحظہ و ہر آن خدا کو یا درکھتے تھے۔(مسلم )1 یا دالی میں شغف دن ہو یا رات، خلوت ہو یا جلوت عالم خواب ہو یا بیداری کبھی بھی آپ آپنے رب کی یاد نہیں بھولے۔فرماتے تھے کہ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے بعض دفعہ میں ستر سے بھی زائد مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔(ابوداؤد )2 صوفیاء نے دست در کار و دل بایار کے محاورہ میں عشق کے جس مقام کا ذکر کیا ہے کہ ہاتھ کام میں لگے ہوں مگر دل یار کے ساتھ ہو۔ظاہر ہے اُس کا تعلق بیداری کی حالت سے ہی ہے۔مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام تو اس سے بھی کہیں آگے تھا کہ سوتے ہوئے بھی آپ کا دل یا دالہی سے معمور ہوتا تھا۔فرماتے تھے ” میری آنکھیں جب سو جاتی ہیں تو بھی دل نہیں سوتا۔“ ( بخاری )3 گویانہ کر الٹی آپ کے دل کی غذا تھا۔جیسے انسانی جسم کا انحصار دوران خون اور عمل تنفس پر ہے۔آپ کی روح کا دارو مدار ذکر الہی پر تھا۔دن بھر میں قضائے حاجت کے ہی چند لمحے ہوں گے جن میں اللہ کے ذکر کی عظمت اور احترام کے باعث آپ اس سے رُک جاتے ہوں، شائد اسی لئے قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آتے تو غُفْرَانَكَ کی دعا کرتے تھے کہ اے اللہ تیری بخشش کا طلبگار ہوں۔(ترمذی (4) اس میں یہی راز تھا کہ چند لمحے بھی کیوں یا دالہی میں روک بنے اس لئے اپنے مولیٰ سے معافی کے طالب ہوتے تھے۔انسانی زندگی کا ایک لمحہ بھی اپنے خالق و مالک کی توفیق اور احسان کے بغیر ممکن نہیں بلکہ محتاج محض ہے جبکہ صفت