اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 76 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 76

اسوۃ انسان کامل 76 رسول اللہ کی محبت الہی و غیرت توحید کسی مادی چیز میں سے نہیں ہے۔بلکہ وہ خودان اشیاء کا خالق ہے۔اس زمانہ میں سورۃ الاخلاص نازل ہو چکی تھی نبی کریم نے انہیں قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ۔پڑھ کر سنائی کہ خدا ایک ہے۔انہوں نے کہا وہ بھی ایک ہے آپ بھی ایک ہیں۔فرق کیا ہوا؟ رسول کریم نے یہ آیت پڑھی " لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَئ " ( شوری : 12) اس جیسی اور کوئی چیز نہیں نہ کوئی مثیل ہے نہ ثانی۔نصاری نجران نے کہا آپ ہمیں اس خدا کی کوئی اور صفات بتائیں۔آپ نے سورۃ الاخلاص کی اگلی آیت پڑھی کہ اللہ بے نیاز ہے اور کسی کا محتاج نہیں۔انہوں نے کہا ”صمد “ کیا ہوتا ہے۔رسول اللہ نے فرمایا مخلوق اپنی ضروریات کے لئے جس ہستی کا سہارا لے وہ ذات صمد کہلاتی ہے۔انہوں نے اللہ کی اور کوئی صفت رسول اللہ سے پوچھی۔رسول اللہ نے پڑھا لَمْ يَلِدْ یعنی نہ اس نے کسی کو جنا جیسے مریم کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔وَلَمْ يُولَدْ اور نہ وہ جنا گیا جیسے حضرت عیسی پیدا ہوئے وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُواً أَحَد اور نہ کوئی مخلوق میں اس کی برابری کرنے والا ہے۔(ترمندی )46 توحید کی یہی محبت آپ نے اپنے صحابہ میں بھی پیدا فرمائی۔چنانچہ ایک انصاری صحابی کا ذکر ہے کہ وہ مسجد قبا میں نماز پڑھاتے تھے اور جہری قراءت والی ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد پہلے سورۃ الاخلاص قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ پڑھ کر پھر اس کے ساتھ کوئی اور سورت تلاوت کرتے تھے۔نمازیوں نے انہیں مشورہ دیا کہ سورت اخلاص ہی پر اکتفا کر لیا کریں اس کے ساتھ الگ سورۃ پڑھنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر مجھ سے نماز پڑھوانی ہے تو میں ایسے ہی پڑھاؤں گا ورنہ بیشک کسی اور کو امام بنالو۔چونکہ وہ ان میں سے صاحب فضیلت تھے اس لئے انہوں نے امام تو نہ بدلا البتہ رسول اللہ کی خدمت میں ان کی شکایت کر دی۔آپ نے اُس صحابی کو بلا کر ہر رکعت میں سورت اخلاص پڑھنے کی وجہ پوچھی۔انہوں نے کہا یہ سورت خدائے رحمان کی صفات پر مشتمل ہے۔مجھے اس کی تلاوت بہت پیاری لگتی ہے۔نبی کریم نے فرمایا اس سورت سے محبت تمہارے جنت میں داخلہ کا ذریعہ بن جائے گی۔(ترمندی) 47۔بلا شبہ سورۃ الاخلاص میں توحید کا مضمون نہایت اختصار اور کمال شان سے بیان ہوا ہے۔رسول کریم کو خدا کے آخری کلام اور اس کے احکام کی بھی بہت غیرت تھی۔حضرت عمر بن الخطاب ایک دفعہ تورات کا ایک نسخہ اٹھا لائے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول یہ تو رات کا نسخہ ہے۔رسول اللہ خاموش بیٹھے رہے۔حضرت عمرؓ اس میں سے پڑھنے لگے تو رسول اللہ کے چہرے کا رنگ متغیر ہونے لگا۔حضرت ابو بکر نے حضرت عمرؓ کو اس طرف توجہ دلائی کہ آنحضور یہ پسند نہیں فرما ر ہے۔اس پر حضرت عمر نے معذرت کی۔رسول اللہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر موسیٰ تم میں ظاہر ہوتے اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی اختیار کرتے تو سیدھی راہ سے گمراہ ہو جاتے اور اگر وہ خود بھی زندہ ہونے کی حالت میں میرا زمانہ نبوت پالیتے تو ضرور میری پیروی کرتے۔( دارمی ) 48 فتح مکہ کے موقع پر ایک قریشی عورت کے چوری کرنے پر جب اس کا ہاتھ کاٹنے کی سزا کا فیصلہ ہوا اور لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز ترین صحابی اسامہ بن زید سے معافی کی سفارش کروائی تو آپ جوش میں آکر فرمانے