اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 690 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 690

690 کتاب اسوة انسانِ کامل کے بارہ میں چند آراء اسوہ انسان کامل ہے جس کی تکمیل اور اشاعت پر مصنف حافظ مظفر احمد کی کاوشوں کی جتنی بھی داد دی جائے کم ہے۔انہوں نے یہ عظیم کارنامہ سرانجام دے کر اپنی بخشش کا سامان کر لیا ہے اور اُن کی یہ سعی بارگاہ نبوی میں ضرور شرف قبولیت حاصل کرے گی۔ایں کار از توایدو مردان چنین کنند انسان کامل اتنی جامع مفصل اور محمدہ پیرائے میں تحریر کی گئی ہے کہ حضور کی سیرت طیبہ کی جامع اور مکمل تصویر قاری کے سامنے آجاتی ہے اور سیرۃ نبوی کا کوئی پہلو تشنہ نہیں رہتا۔أسود انسان کامل اُردو کے سیرتی سوانحی ادب میں ایک خوبصورت اور گراں پا یہ اضافہ ہے۔جس کے لئے مکر می حافظ مظفر احمد مبارکباد کے مستحق ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے۔آمین۔محترم رشید قیصرانی صاحب مرحوم ( ر ) ونگ کمانڈر۔ڈیرہ غازی خان یوں تو حضور کی سیرت طیبہ پر بے شمار کتابیں لکھی گئیں ہیں اور بے شمار کتابیں لکھی جائیں گی لیکن جس منفردانداز میں مکرم حافظ صاحب نے یہ بابرکت فریضہ سرانجام دیا ہے وہ منفرد بھی ہے اور قابل ستائش بھی۔انسانی زندگی کی ہر ر بگذر پر جہاں جہاں اُس ہادی اعظم اللہ کے نقوش پا موجود ہیں انہیں حافظ صاحب نے ایک ضخیم کتاب میں سمونے کی کوشش کی ہے۔کتاب کو بیالیس ابواب ( اب سینتالیس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر باب میں حضور ﷺ کی زندگی کے کسی ایک پہلو کو مستندا حادیث کے حوالہ جات کے ذریعے اُجاگر کیا گیا ہے۔کتاب میں ایسے ایک ہزار سے زائد حوالے درج ہیں جو سیرت نبوی ﷺ پر تحقیق کرنے والوں کے لئے انتہائی مفید ثابت ہو نگے۔اس خاکسار نے کتاب کے مطالعے کے وقت جو بات بطور خاص محسوس کی وہ اس کا انداز تحریر ہے جس سے مجھے بارہا صلى الله یوں محسوس ہوا جیسے میں بھی اُس بابرکت محفل میں موجود ہوں جہاں وہ صاحب خلق عظیم ماہ جلوہ فرما ہیں اور محو گفتگو یا مصروف عمل ہیں زیر نظر کتاب میں اُس پیکر عفو و عنایات کے انداز دلربائی کا بیان ہی کچھ ایسا ہے کہ دورانِ مطالعہ بار ہا میری زبان نے درود وسلام اور میری آنکھوں نے آنسوؤں کا نذرانہ اُس شاہ ولر باعہ کے حضور پیش کیا اور مکرم حافظ صاحب کے لئے بے ساختہ دعائیہ الفاظ زبان پر آتے رہے۔خداوند کریم ورحیم انہیں مزید خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔