اسوہء انسانِ کامل — Page 653
اسوہ انسان کامل 653 نبیوں میں سب سے بزرگ اور کامیاب نبی thirst of revenge, and the oppression of widows and orphans۔"(24) ترجمہ : عرب کے نبی کی غیر معمولی ذہنی صلاحیت۔اس کی قوم کے طور و اطوار اور اس کے مذہب کی روح مشرقی سلطنتوں کے انحطاط کی وجوہات بنیں اور ہماری آنکھیں بے چینی سے ایک ایسے یادگار انقلاب میں اٹک کر رہ جاتی ہیں جس نے ایک نیا اور دیر پا کر دار دنیا کی اقوام کیلئے نمونہ کے طور پر چھوڑا۔۔۔آپ کا حافظہ وسیع اور تیز تھا۔آپ کی ذہانت ( لوگوں کیلئے ) آسان اور عام مہم تھی، آپ کے خیالات انتہائی اعلیٰ ، آپ کے فیصلے بالکل واضح، فوری اور حتمی ، آپ سوچ و عمل ہر دو میدانوں میں درک رکھتے تھے۔محمد کے عقائد شک و شبہ سے بالا ہیں۔اور قرآن خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی ایک عظیم الشان دلیل۔مکہ کے نبی نے بتوں اور انسانوں ، ستاروں اور سیاروں کی پرستش اس عقلی دلیل قائم کرتے ہوئے رو کیا کہ جو چیز بھی طلوع ہوتی ہے اسے ضرور غروب ہونا ہوتا ہے۔اور جو بھی پیدا ہوتا ہے اسے ضرور مرتا ہے اور جو بھی اپنی اصلی حالت کھو سکتا ہے ضرور شکست وریخت کا شکار ہوتا ہے یہاں تک کہ ختم ہو جاتا ہے محمد کے اقوال اپنے اندر بہت سی سچائیاں لیے ہوئے ہیں اور آپ کی سنت بہت پیارے نیکی کے نمونے سے معطر ہے۔آپ نے ضمیر کی آزادی پر زور دیا اور مذہب کے نام پر تشدد کو ختم کر دیا ملکہ کا سردار ایمان لانے والوں کی محمد سے عقیدت پرسششدر رہ گیا جس طرح وہ آپ کے الفاظ اور نظروں پر توجہ کرتے ، اس عقیدت پر کہ جس سے وہ محمد کے لعاب دہن کو اکٹھا کرتے ، یا زمین پر گرنے والے بال کو یا آپ کے غسل سے بچے ہونے پانی کو لیتے گویا یہ تمام اشیاء نبوت کا کوئی حصہ ہوں۔میں نے دیکھا ہے انہوں نے کہا ایرانی خسرو پرویز اور قیصر روم کولیکن میں نے کبھی بھی کسی بھی بادشاہ کیلئے اس کے عوام کے دلوں میں ایسی عقیدت نہیں دیکھی جیسی محمد کے مانے والوں کے دلوں میں ان کیلئے ہے، انتہائی والہانہ اور مخلصانہ گرم جوشی دربار کی سرد اور رسمی غلامی کی نسبت کہیں زیادہ شدت اور سچائی سے اثر انداز ہوتی ہے۔قریش کے سردار آپ کے قدموں پر گر پڑتے ہیں 'تم ایک ایسے آدمی سے کیا رحم کی امید کر سکتے ہو جسے تم نے جھوٹا قرار دے دیا ہو؟ ہمیں اپنے عزیز کی سخاوت پر اعتماد ہے اور تمہارے اعتماد کوٹھیس نہ پہنچائی جائے گی۔چلے جاؤ! تم محفوظ ہو تم آزاد ہو، اگر آپ کی ازواج اور صحابہ سے مروی روایات میں سے تھوڑے سے حصے کو بھی تسلیم کر لیا جائے تو آپ میں اپنے گھر میں اور اپنے آخری لمحات میں اپنی ذات کے اندر ایک رسول کی سی بڑائی اور ایک حوصلہ مند مرد کا یقین (موجود) نظر آتا ہے محمد کی نفیس طبیعت شاہی نمود و نمائش کو پسند نہ کرتی تھی۔اللہ تعالیٰ کے نبی اپنے گھر میلو کام کاج بھی کر لیا کرتے تھے ، آپ آگ جلا لیتے تھے ، فرش پر جھاڑو لگا دیتے، بھیڑ کا دودھ دوہ لیتے اور آپ اپنے ہاتھوں سے اپنے جوتوں کو گانٹھ لیتے اور اون کے پوشاک کو بھی رفو کر لیتے۔آپ نے راہبانہ تکلیف اور طریق کا رکو نا پسند فرماتے ہوئے بغیر تصنع یا خود نمائی کے ایک عربی اور ایک فوجی کی متوازن خوراک کو استعمال کیا۔بعض خوشی کے مواقع پر آپ اپنے صحابہ کی دیہی قسم کی اشیاء سے وافر مقدار سے دعوت بھی کرتے مگر تا ہم اپنے گھر میں بعض اوقات ہفتے گزر جاتے اور چولہے میں آگ نہ جلتی۔محمد کے مذہب کے پھیلنے کی بجائے اس کا تسلسل سے قائم رہنا ہمارے لئے حیران کن ہے وہی خالص اور اصل عکس جو آپ نے مکہ اور مدینہ میں کندہ کیسے بارہ صدیاں گزر جانے کے