اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 635 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 635

نبیوں میں سب سے بزرگ اور کامیاب نبی 635 اسوہ انسان کامل but nonetheless children of the self-same father, to be brought to the right road, or indulgently tolerated are ready for redemption۔(11) ترجمہ : ” ہر نبی اپنے دعوی کو معجزات کے ذریعے مضبوطی بخشتا ہے۔اس لحاظ سے تو محمد یقیناً دوسرے تمام انبیاء ما خلا و ما بعد سے عظیم ترین تسلیم کئے جانے چاہیں۔اسلام کا پھیلنا تمام منجزات سے زیادہ معجزانہ شان رکھتا ہے۔“ " آج کی پڑھی لکھی اور باشعور د نیا اس نا معقول نظریہ کو مستر د کر چکی ہے کہ اسلام کا ظہور اور ترقی گویا شدت پسندی کی متمدن اور عمدہ اقوام پر فتح تھی۔اسلام کی شاندار کامیابی کی بنیادی وجہ اس کا انقلاب انگیز امتیاز اور اس کی عوام الناس کو یاس و ناامیدی کے ان حالات سے بازیاب کروانے کی اہلیت تھی جو پرانی تہذیبوں کے انحطاط کے باعث پیدا ہوئیں جن میں نہ صرف رومی اور یونانی تہذیبیں شامل ہیں بلکہ ایرانی چینی اور ہندوستانی بھی۔اسلام کا بنیادی رکن لا الہ الا اللہ۔اپنی ذات میں رواداری کا آئینہ دار ہے۔اگر تمام دنیا اپنے تمام عیوب اور خرابیوں سمیت تمام انسانیت اپنے تمام تر گناہوں اور کمزوریوں کے ساتھ اسی خدا کی تخلیق تسلیم کئے جائیں تو ممکن ہے کہ اس اعلیٰ عقیدہ پر ایمان لانے والا ان عیوب پر افسوس کرے اور باتیں اس کے نزدیک مضحکہ خیز اور بگڑی ہوئی ہیں ان پر ہنسے۔لیکن اس کے ایمان کی نوعیت اسے یہ بات سوچنے کی اجازت نہ دے گی کہ وہ انہیں کسی دوسرے جھوٹے خدا کی تخلیق یا اس کے عبادت گزار تسلیم کرے اور اس کے نتیجے میں ان سے اعلان جنگ کر دے۔وہ لوگ جو کسی اور طرز پر عبادت بجالاتے ہیں ان کے نزدیک غلطی خوردہ ہیں، راہ راست سے بٹے ہوئے ہیں مگر ہیں تو اسی ایک باپ کی اولاد جنہیں راہ راست پر لانا ابھی باقی ہے۔یا یہ ہو سکتا ہے کہ انہیں متاثر کن حد تک برداشت کیا جائے۔یہاں تک کہ وہ گناہوں سے نجات کیلئے تیار ہو جائیں۔“ 9۔مسٹر فلپ کے بٹی (1937ء) پروفیسر پرنسٹن یونیورسٹی امریکہ رقمطراز ہیں: "Arabia, which had hitherto never bowed to the will of one man, seemed now inclined to be dominated by Muhammad and be incorporated into his new scheme۔Its heathenism was yielding to a nobler faith and a higher morality۔۔۔۔Even in the height of his glory Muhammad led, as in his days of obscurity, an unpretentious life in one of those clay houses consisting, as do all old-fashioned houses of present-day Arabia and Syria, of a few rooms opening into a courtyard and accessible only therefrom۔He was often seen mending his own clothes and was at all times within the reach of his people, thus by one stroke the most vital bond of Arab relationship,