اسوہء انسانِ کامل — Page 628
اسوہ انسان کامل 628 نبیوں میں سب سے بزرگ اور کامیاب نبی Mohammad was more than honest۔He was human to the marrow of his bones۔Human sympathy, human love was the music of his soul۔To serve man, to elevate man, to purify man, to educate man, in a word to humanize man - this was the object of his mission, the be-all and end all of his life۔In thought, in word, in action he had the good of humanity as his sole inspiration, his sole guiding principle۔"(6) ملتا۔ترجمہ : مسلمان تاریخ دانوں کے مطابق محمد 20 اپریل 571ء کو عرب کے صحرا میں پیدا ہوئے۔آپ کے نام کا مطلب ” بہت تعریف کیا گیا ہے۔میرے خیال میں آپ معرب کے سپوتوں میں سب سے اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔آپ عرب کے نا قابل عبور سرخ ریت کے صحرا میں اپنے سے پہلے گزرنے والے تمام شاعروں اور بادشاہوں سے بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔جب آپ مبعوث ہوئے تو عرب ایک صحرا تھا۔ایک نا قابل ذکر ملک۔اس نا قابل ذکر جگہ سے محمد کے عظیم وجود سے ایک نیا عالم وجود میں آیا۔ایک نئی زندگی ، ایک نئی ثقافت ، ایک نئی تہذیب ، ایک نئی سلطنت جو مراکش سے ہندوستان تک وسیع تھی کہ جس نے تین براعظموں یعنی ایشیاء افریقہ اور یورپ کے فکر و عمل کو متاثر کیا وجود میں آئی۔نظریہ اسلام اور تلوار کے بارے میں آج کی مقبول دنیا میں عام ذکر نہیں عالمی بھائی چارے کے اصول اور انسانی مساوات کی تعلیم جسے آپ نے پیش کیا انسانیت کی معاشرتی ارتقاء میں آپ کے عظیم کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔تمام بڑے مذاہب نے یہی تعلیمات دی ہیں لیکن نبی اسلام نے اس نظریہ کا عملی نمونہ پیش کیا اور شاید صدیوں بعد جب بین الاقوامی ضمیر بیدار ہونے سے نسلی تعصبات ختم ہونگے اور سب انسان اخوت کی لڑی میں پروئے جائیں گے تب اس بات کی اہمیت کا اندازہ ہوگا۔عربوں میں یہ رسم راسخ تھی کہ طاقتور زور بازو سے وراثت حاصل کرتا تھا۔مگر اسلام صنف نازک کے دفاع کا علمبر دار بنا اور اس نے عورتوں کو والدین کے ترکے کا وارث قرار دیا۔اس حکم نے عورت کو جائیداد کے مالک ہونے کا حق صدیوں پہلے دے دیا تھا جبکہ انگلستان میں جو جمہوریت کی ابتدائی درسگاہ کہلاتا ہے۔1881ء میں اسلام کا یہ اصول اپنایا گیا اور یہ قانون The" Married Woman's Act کے نام سے موسوم ہوا۔تاریخی ریکارڈ سے واضح ہوتا ہے کہ محمد کے تمام ہم عصر چاہے وہ دوست ہوں یا دشمن محمد کے وقیع خواص، بے داغ ایمانداری، زہد تقوی ، کمال اخلاص اور اسکے علاوہ زندگی کے ہر میدان میں انسانی عادات و اطوار میں آپ کے نمونہ کو بہترین تسلیم کرتے ہیں۔۔۔حالات بدل گئے مگر اللہ کا نبی نہ بدلا۔فتح ہو یا شکست ، طاقت ہو یا بے سروسامانی کا عالم ، فراخی ہو یا تنگی آپ کی شخصیت کا ایک خاص ٹھہراؤ ہر موقعہ پر ظاہر ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے تمام طریقوں اور قوانین کی طرح اللہ تعالی کے انبیاء بھی غیر متبدل ہوتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ایک دیانتدار انسان خدا کی بہترین تخلیق ہے، محمد امانت و دیانت میں بہت بلند مقام رکھتے تھے۔انسانیت گویا آپ میں رچی بسی تھی۔آپ کی روح محبت اور ہمدردی خلق کے گیت گاتی تھی۔انسان کی خدمت، انسان کو رفعت بخشا، انسان