اسوہء انسانِ کامل — Page 49
اسوہ انسان کامل 49 شمائل نبوی علی کا بڑا حصہ آپ کو وقف کرنا پڑتا تھا۔گھر یا مجلس میں جہاں اور جب بھی وحی الٹی کا نزول ہوتا اس کے بوجھ سے ایک خاص کیفیت آپ پر طاری ہوتی۔جسم پسینہ سے شرابور ہو جاتا جس کے فوراً بعد کا تب کو بلوا کر وحی الہی لکھوا لیتے۔( بخاری )12 تھا۔وحی قرآن کے یادر کھنے اور نمازوں میں تلاوت کے لئے گھر پر اس کا اعادہ اور غور ومنڈ بر ایک الگ محنت طلب کام ذکر الهی و دعا بی کریم ہر کام اللہ کا نام لے کر شروع کرتے ، فرماتے تھے کہ اس کے بغیر کام بے برکت ہوتے ہیں۔( ہیمی 13) آپ فراغت و مصروفیت ہر حال میں اللہ کو یادر رکھتے تھے۔الغرض آپ دست در کار و دل بایار کے حقیقی مصداق تھے۔ہر موقع اور محل کے لئے آپ سے دعا ئیں ثابت ہیں۔صبح اٹھتے ہوئے خیر و برکت کی دعا مانگتے تو شام کو انجام بخیر کی۔گھر سے جاتے اور آتے ہوئے، مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے ہوئے، کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں، بیت الخلاء جاتے آتے ، بازار جاتے ہوئے ، سفر پر روانہ ہوتے ہوئے، سوتے اور جاگتے وقت ہر حال میں خدا کی طرف رجوع کرتے اور اسے سہارا بنا کر دعا کرتے۔مجلس میں بیٹھے ستر مرتبہ استغفار فرماتے تھے۔( بخاری ) 14 دعاؤں میں زیادہ الحاح اور تضرع کے وقت یا حی یا قیوم کی صفات الہیہ ( یعنی اے زندہ اے قائم رکھنے والے) پڑھ کر دعا کرتے۔مصیبت کے وقت آسمان کی طرف سر اٹھا کر سُبحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمُ پڑھتے۔یعنی پاک ہے اللہ بڑی عظمت والا۔مجلس میں چھینک آنے پر دھیمی آواز میں الحمد للہ کہتے اور کسی دوسرے کو چھینک آنے پر يَرْحَمُكَ اللہ کی دعادیتے کہ اللہ تم پر رحم کرے۔( بخاری ) 15 صحابہ سے عام ملاقاتیں ، وعظ و نصیحت اور سوال و جواب کی مجالس کے پروگرام نمازوں کے اوقات میں ہو جاتے تھے۔اکثر اپنے اصحاب خصوصاً انصار کے گھروں میں تشریف لے جاتے۔( احمد 16 ) حضرت ابو طلحہ انصاری کے گھر بھی تشریف لے گئے، کبھی ان کے باغ میں جا کر وقت گزارتے۔( بخاری ) 17 نماز عصر کے بعد باری باری سب ازواج مطہرات کے گھر جایا کرتے تھے۔(احمد 18 ) یہ گھر ایک حویلی میں مختلف کمروں کی صورت میں پاس پاس ہی تھے۔مغرب کے بعد سب بیویاں اس گھر میں جمع ہو جا تیں جہاں حضور کی باری ہوتی وہاں ان کے ساتھ مجلس فرماتے۔ظہر کے بعد گھر میں حسب حالات کچھ قیلولہ فرما لیتے اور فرمایا کرتے کہ قیلولہ کے ذریعے رات کی عبادت کیلئے مدد حاصل کیا کرو۔(طبرانی) 19 عشاء سے قبل سونا آپ کو پسند نہ تھا تا کہ نماز عشاء نہ رہ جائے اور عشاء کے بعد بلاوجہ زیادہ دیر تک فضول باتیں اور