اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 617 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 617

اسوہ انسان کامل 617 آنحضرت ﷺ کی خداداد فر است و بصیرت اس طرح آپ نے آج سے ڈیڑھ ہزار سال پہلے تولیدی وراثت کے لطیف مضمون کی طرف توجہ دلا کر یہ مسئلہ حل کر دیا۔ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے پیارا عمل کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا وقت پر نماز ادا کرنا پھر والدین سے حسن سلوک اور پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔( بخاری )39 ایک اور موقع پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے پیارا عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی اور دوام اختیار کیا جائے۔( بخاری )40 اس اہم سوال کے جواب میں بھی آپ نے کمال حکمت اور بصیرت سے ایک فقرہ میں اس جماعت کی مکمل صفات اور علامات بیان کرنے کا حق ادا فر ما دیا۔حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ سے پوچھ لوگوں میں سے اللہ کو سب سے پیارا کون سا ہے۔رسول اللہ نے فرمایا اللہ کو سب سے زیادہ پیارے وہ ہیں جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچاتے ہیں اور اللہ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ خوشی ہے جو ایک مسلمان کو دی جائے۔(طبرانی) 41 ایک اور شخص نے جہاد پر جانے کی اجازت چاہی تو فرمایا کیا تمہارے والدین زندہ ہیں ؟ اس نے کہا ہاں۔فرمایا پھر ان کی خدمت کر کے تم جہاد کرو۔( بخاری )42 ایک اور شخص نے (جس کی طبیعت میں غصہ غالب تھا) کہا مجھے کوئی وصیت کریں آپ نے فرمایا بھی غصہ نہ کرو۔اس نے پھر پوچھا کوئی اور نصیحت آپ نے ہر بار یہی جواب دیا کہ غصہ نہیں کرنا۔( بخاری )43 حضرت ابو ذر کو ( جو تنہائی پسند تھے ) حسن معاشرت کے بارہ میں یہ نصیحت فرمائی کہ لوگوں سے حسن خلق سے پیش آیا کریں ، اور بدی کا بدلہ نیکی سے دو اور کھانا پکاؤ تو شور بہ زیادہ کر لو اور اپنے ہمسایوں کو بھی اس میں سے دو۔(ترمدی, مسلم ) 44 نوافل کی ادائیگی میں آپ کا اپنا طریق یہ تھا کہ بالعموم رات کے آخری پہر گیارہ رکعت نماز تہجد بشمول تین وتر ادا فرماتے تھے۔حضرت عمرؓ کے بارہ میں پتہ چلا کہ وہ بھی آخری پہر وتر ادا کرتے ہیں تو فرمایا کہ وہ ہمت والے ہیں اور حضرت ابو بکر کے رات کو وتر پڑھ کر سونے کے طریق پر یہ تبصرہ فرمایا کہ وہ محتاط ہیں۔اپنے صحابی حضرت ابو ہر میرا کو ان کے مناسب حال اسی احتیاط کی راہ اختیار کرنے کی وصیت کی اور فرمایا کہ تین وتر ادا کئے بغیر نہ سوئیں۔(بخاری)45 جب سورہ جمعہ کی آیات اتریں جن میں آخرین کی ایک جماعت کا ذکر ہے جن میں رسول اللہ مبعوث ہوکر تعلیم کتاب و حکمت دیں گے اور پاک کریں گے اور وہ ابھی صحابہ سے نہیں ملے تو اس پر ایک شخص نے سوال کیا یہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔اس نے تین مرتبہ یہ سوال کیا پھر نبی کریم نے سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اگر ایمان ثریا ستارہ کی بلندی تک بھی چلا گیا تو ان لوگوں یعنی سلمان اور اس کی قوم ( اہل فارس ) میں سے کچھ لوگ