اسوہء انسانِ کامل — Page 616
اسوہ انسان کامل 616 آنحضرت ﷺ کی خداداد فر است و بصیرت نوازا۔(ابن اثیر 34 قبیلہ طے کا وفد اپنے سردار زید الخیل کے ساتھ آیا جو ایک فصیح و بلیغ شاعر اور خطیب تھے۔اور اپنے خاص گھوڑوں کی وجہ سے مشہور تھے۔رسول اللہ نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور وہ مسلمان ہو گئے۔حضرت زیڈ سے گفتگو اور ملاقات کے بعد رسول اللہ نے ان کے بارہ میں اپنی بصیرت افروز رائے دیتے ہوئے فرمایا کہ عرب کے کسی شخص کی فضیلت کا ذکر مجھ سے نہیں کیا گیا مگر جب وہ مجھے ملا تو اسے اس سے کم تر پایا سوائے زید کے کہ ان کے بارہ میں جو سنا تھا انہیں اس سے بڑھ کر پایا۔( الحلبیہ (35 طائف سے بنو ثقیف کا وفد مدینہ آیا۔جس سے مسلمان بہت خوش ہوئے کیونکہ رسول اللہ طائف کے تبلیغی سفر میں جب رسول اللہ سے پہاڑوں کے فرشتہ نے اہل طائف کی ہلاکت کے بارہ میں پوچھا تو آپ نے انتہائی دوراندیشی سے اس وقت یہ عرض کیا تھا کہ ان کو ہلاک نہ کیا جائے ” میں امید کرتا ہوں ان کی نسل سے توحید کے ماننے والے پیدا ہوں گئے۔( بخاری )36 فتح مکہ کے بعد اہل طائف قلعہ بند ہو گئے اور رسول اللہ انکا محاصرہ چھوڑ کر واپس تشریف لے آئے تھے۔اب حضور کی امید بر آئی اور اہل طائف کا وفد خود حاضر تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لئے مسجد نبوی میں ایک جانب خیمہ نصب کروایا۔اسی میں یہ حکمت تھی انہیں قرآن سنے کا موقع ملتا ہے اور وہ دیکھیں کہ مسلمان نماز کیسے پڑھتے ہیں۔اس موقع پر بعض صحابہ نے یہ سوال کیا کہ اہل طائف مشرک اور نجس ہیں انکو مسجد نبوی میں نہ ٹھہرایا جائے آپ نے فرمایا کہ ان کی نجاست ظاہری نہیں، باطنی ہے۔اور انہیں مسجد میں ہی ٹھہرا کر ان کے لئے اصلاح و تربیت کے مواقع پیدا فرمائے۔(بصاص)37 حکیمانہ جواب رسول اللہ ﷺ کی فراست و بصیرت کا غیر معمولی اظہار آپ کی ان مجالس سے بھی ہوتا تھا، جن میں متنوع لوگ اپنی حاجات اور مسائل دریافت کرنے کے لئے حاضر ہوتے اور آپ ہر فرد کو اس کے مناسب حال جواب سے نوازتے۔ایک دفعہ بنی فزارہ قبیلہ کے ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! میری بیوی نے سیاہ رنگ کے بچے کو جنم دیا ہے گویا سرخ وسفید میاں بیوی کے ہاں ایسے بچے کی پیدائش اسکے لئے قابل اعتراض تھی ) آنحضرت ﷺ نے جس کمال بصیرت و حکمت سے اس کی تشفی کروائی اسے دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔آپ نے اس سے پوچھا کہ تمہارے اونٹ ہیں؟ اس نے کہا ہاں۔فرمایا کس رنگ کے ہیں؟ کہا سرخ رنگ کے۔فرمایا ان میں کوئی گندمی رنگ کا بھی ہے؟ کہنے لگا جی ہاں۔رسول اللہ علیہ نے پوچھا سرخ اونٹوں میں گندمی کہاں سے آگیا ؟ کہنے لگا شاید اس کے باپ دادا میں کوئی اس رنگ کا ہو۔آپ نے فرمایا پھر تمہارا بیٹا بھی ممکن ہے اپنے آباء میں سے کسی کے رنگ پر چلا گیا ہو۔( بخاری )38