اسوہء انسانِ کامل — Page 48
اسوہ انسان کامل 48 شمائل نبوی شریف کی لمبی تلاوت کرتے ، اتنی لمبی کہ زیادہ دیر کھڑے رہنے سے پاؤں پر ورم ہو جاتے۔نماز کے بعد آپ کچھ دیر لیٹ جاتے۔اگر آپ کے گھر والوں میں سے کوئی جاگ رہا ہوتا تو اس سے بات کر لیتے ورنہ آرام فرماتے۔پھر جو نہی نماز کے لئے حضرت بلال کی آواز کان میں پڑتی فورا نہایت مستعدی سے اُٹھتے اور دو مختصر رکعت سنت ادا کر کے نماز فجر پڑھانے مسجد نبوی میں تشریف لے جاتے۔کبھی نماز تہجد بیماری وغیرہ کے باعث رہ جاتی تو دن کے وقت نوافل ادا کرتے۔(بخاری)5 نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک صحابہ کے درمیان تشریف فرما ہوتے۔ذکر الہی سے فارغ ہوکر صحابہؓ سے احوال پرسی فرماتے ،زمانہ جاہلیت کی باتیں بھی ہوتیں۔آپ پوچھتے کہ اگر کسی کو کوئی خواب آئی ہو تو سنائے۔اچھی خواب پسند فرماتے اور اس کی تعبیر بیان کرتے۔کبھی اپنی کوئی خواب بھی سنا دیتے۔( بخاری، مسلم) 6 رسول کریم صبح ہی اپنے دن کا پروگرام مرتب فرما لیتے۔اگر کسی صحابی کو تین دن سے زیادہ غیر حاضر پاتے اس کے بارہ میں پوچھتے اگر وہ سفر پر ہوتا تو اس کے لئے دعا کرتے۔شہر میں ہوتا تو اس کی ملاقات کو جاتے۔بیمار ہوتا تو اس کی عیادت کو تشریف لے جاتے۔(کنز ) 7 رسول کریم کی مجالس صحابہ سے ملاقات اور تعلیم و تربیت کا بھی ایک نہایت عمدہ موقع ہوتی تھیں۔صبح صبح مدینہ کے بچے حصول متبرک کے لئے برتنوں میں پانی وغیرہ لے کر آجاتے تھے۔آپ برتن میں انگلیاں ڈال کر تبرک عطا فرماتے۔(مسلم)8 قومی کاموں سے فارغ ہو کر آپ گھر تشریف لے جاتے۔اہل خانہ سے پوچھتے کہ کچھ کھانے کو ہے۔مل جاتا تو کھا لیتے اور اگر کچھ موجود نہ ہوتا تو فرماتے اچھا آج ہم روزہ ہی رکھ لیتے ہیں۔(ترندی) 9 بادشاہ اور بڑے لوگ اپنے کام وزراء اور دوسروں کے سپرد کر کے خود عیش و عشرت سے زندگی گزارتے ہیں مگر بادشاہ ہر دوسرا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پنجوقتہ نمازیں، جمعہ، عید وغیرہ خود پڑھاتے تھے۔پھر گھر میں جو وقت گزرتا کام کاج میں اہل خانہ کی مددفرماتے۔ہاتھ سے کام کرنا عار نہ سمجھتے۔عام آدمی کی طرح گھر میں کام کرتے ، کپڑے خودسی لیتے ، پیوند بھی لگائے ، ضرورت پر جوتا بھی ٹانک لیا، جھاڑو بھی دیا، حسب ضرورت جانوروں کو باندھ دیتے اور چارہ بھی ڈال دیتے ، دودھ دوھ لیا کرتے۔خادم تھک جاتے تو ان کی مدد فرماتے۔بیت المال کے جانوروں کو نشان لگانے کی خاطر خود داغ دیتے۔(مسلم ، احمد ) 10 آپ اپنے ہمسایوں کا بہت خیال رکھتے ، ان کی بکریوں کا دودھ اُن کو دوھ کر دیتے۔(احمد)11 رسول کریم کی ایک بہت اہم اور نازک ذمہ داری نزول قرآن اور اس کی حفاظت کی تھی۔اس کے لئے اپنے اوقات