اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page vi of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page vi

اسوہ انسان کامل ii پیش لفظ ہے۔آج بھی نبی کریم کی سیرت پر لکھنے والوں کی صف میں شامل ہونا اپنوں اور غیروں میں برابر باعث اعزاز سمجھا جاتا ہے مگر بائیں شرط کہ: اوچه میدارد بمدح کس نیاز مدح أو خود فخر ہر مدحت گرے رسول اللہ کی ذات پر لکھی گئی بے شمار کتب ہائے سیرت کا جہاں تک تعلق ہے، ان میں بالعموم آپ کی سوانح اور سن وارا حوال و واقعات کے بیان میں زیادہ توجہ کی گئی ہے۔جب کہ آپ کے نمونہ وکردار کے بیان میں اختصار سے کام لیا گیا ہے، حالانکہ اسوہ رسول کا یہ مضمون اپنی ذات میں انتہائی اہم ہے۔رسول اللہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق سب سے عمدہ ہیں۔آپ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! بہترین اخلاق کی طرف میری رہنمائی کر کہ تیرے سوا کوئی یہ رہنمائی نہیں کر سکتا اور تو خود مجھے بڑے اخلاق سے بچالے کہ تیرے سوا بد اخلاق سے کوئی بچا نہیں سکتا ھے پس مکارم اخلاق رسول سے تعارف کے لئے واقعاتی انداز میں یہ کتاب اسوہ انسان کامل ایک دیر یہ ضرورت تھی جو سالہا سال کی محنت و کاوش کا ثمر ہے۔اُردو کی لا تعداد کتب سیرت میں علامہ شبلی نعمانی کی مستند کتاب سیرت النبی اہم ہے۔جس کی دوسری جلد میں سیرت واخلاق فاضلہ پر عمدہ نوٹ قلمبند کئے گئے ہیں مگر وہ بھی تشنہ ہیں۔بعض اور علماء نے بھی اسوۂ حسنہ کے موضوع پر کتب لکھیں مگر اُن میں ایک تو واقعاتی مواد کم ہے، دوسرے حوالہ جات کے استناد کا اہتمام نہیں۔متداول کتب سیرت میں یہ تشنگی محسوس کرتے ہوئے اسوہ انسان کامل “ میں سن وارسوانح کی بجائے اسوۂ حسنہ کے مختلف پہلو دلنشیں واقعاتی اُسلوب میں پیش کئے گئے ہیں۔اللہ جزا دے برادرم مکرم نسیم مہدی صاحب ( سابقہ امیر جماعت ہائے احمد یہ کینیڈا ) کو جن کی تجویز پر حضرت خلیفہ المسیح الرابع " نے اس عاجز کو حضرت میر محمد اسحاق صاحب کے مطبوعہ مضمون ”انسان کامل“ کے خاکہ میں واقعات کے رنگ بھر کر ایک دلکش گلدستۂ سیرت تیار کرنے کا ارشاد فرمایا۔سیرت رسول کے موضوع پر کچھ لکھنے کی سعادت پانا دیرینہ دلی آرزو تھی۔حضرت مسیح موعود کا وہ جامع بیان پڑھ کر بھی اس موضوع پر قلم اُٹھانے کو جی مچلتا تھا جس میں آپ نے اللہ تعالیٰ کی صفت نور کے پرتو سے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں پیدا ہونے والے نورانی اخلاق کی ایک جامع فہرست دے کر گو یا اہل علم کو دعوت تحقیق و قلم دی ہے۔آپ نے نور علی نور کی تفسیر کرتے ہوئے تحریر فرمایا:۔عقل ذكا،سرعت فہم ، صفائی ذہن، حسن، تحفظ، حسن تذکر ، عفت، حیا، صبر، قناعت، زہد، توزیع، جوانمردی، 1- بخاری کتاب الادب 2- مسلم كتاب الصلوة