اسوہء انسانِ کامل — Page 558
اسوہ انسان کامل 558 رسول اللہ کی حیرت انگیز تواضع حضرت انس بن مالک خادم رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم اپنی سواری کے پیچھے سوار کرا لیتے تھے اور زمین پر رکھ کر کھانا کھا لیتے تھے ، غلام کی دعوت قبول کرتے اور گدھے پر سواری کر لیتے تھے۔( حاکم )19 حضرت ابوموسی کی روایت کے مطابق آپ موٹے اونی کپڑے پہن لیتے ، اپنی بکری باندھ لیتے اور مہمان کا خود خیال رکھتے اور خدمت کرتے تھے۔(حاکم) 20 حمزہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ نبی کریم میں ایسی خوبیاں تھیں جو متکبر اور سرکش لوگوں میں نہیں ہوتیں۔آپ بلا امتیاز رنگ ونسل لوگوں کی دعوت قبول فرماتے تھے اور گدھے کی نگی پشت پر سوار ہو جاتے تھے۔ایک دفعہ ایک یہودی کی معمولی دعوت قبول فرمائی جس نے جو اور چربی پیش کی۔(ابن سعد ) 21 حضرت عمر بن خطاب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک شخص نے نبی کریم کو تین مرتبہ بلایا ، ہر دفعہ آپ نے لبیک کہہ کر جواب دیا کہ میں حاضر ہوں۔( بیٹمی ) 22 عبداللہ بن جبیر خزاعی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم اپنے اصحاب کے ساتھ کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ آپ کے لئے کپڑے کا سایہ کیا گیا۔جب آپ نے سایہ دیکھ کر سر او پر اُٹھایا تو دیکھا کہ آپ کو کپڑے سے سایہ کیا جا رہا ہے آپ نے فرما یا ر ہنے دو اور کپڑا لے کر رکھ دیا اور فرمایا ” میں بھی تمہاری طرح کا انسان ہوں۔بیٹمی )23 حضرت عامر بن ربیعہ کی روایت ہے کہ میں رسول کریم کے ساتھ مسجد کی طرف نکلا، اس دوران حضور کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا۔میں حضور کا جوتا لے کر اسے ٹھیک کرنے لگا آپ نے میرے ہاتھ سے وہ جوتا واپس لے لیا اور فرمایا ” یہ ترجیحی سلوک ہے اور مجھے اپنے لئے ترجیح پسند نہیں۔“ (بیٹمی ) 24 حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن علی الصبح آنحضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ خود اپنے بیت المال کے اونٹوں کو داغ رہے ہیں۔( ابوداؤد ) 25 حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ میں ایک دفعہ رسول کریم کے ساتھ بازار گیا ، آپ کپڑے کی دکان میں گئے اور وہاں سے چار درھم کے کچھ پاجامے خریدے۔رائج الوقت طریق کے مطابق حضور سے یہ رقم وصول کرنے کے لئے جب وزن کرنے والا چاندی کے سکے تو لنے لگا تو آپ نے فرمایا کہ پلڑے کو جھکنے دو۔مقصد یہ تھا دوکاندار کو کچھ زیادہ مل جائے۔دوکاندار حیران و ششدر تھا کیونکہ پہلی دفعہ کسی گاہک نے اس کے فائدہ کی بات کی تھی۔وہ لیک کر حضور کے ہاتھ چومنے کے لئے آگے بڑھا۔آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا عجمی لوگ ایسا کرتے ہیں۔میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں۔میں تو تم میں سے ہی ایک فرد ہوں۔پھر رسول اللہ نے پاجامے خود ہی اٹھالئے۔ابوھریرہ کہتے ہیں کہ میں اٹھانے لگا تو آپ نے انکساری کی کیسی خوبصورت تعلیم فرمائی کہ جس کی چیز ہو، وہ اسکو اٹھانے کا زیادہ حقدار ہوتا ہے، البتہ اگر وہ کمز ور و نا تواں ہو اور اپنی چیز اٹھانے سے عاجز ہو تو پھر اس کا مسلمان بھائی اسکی مدد کرے۔( ہیمی ) 26