اسوہء انسانِ کامل — Page 557
اسوہ انسان کامل 557 رسول اللہ کی حیرت انگیز تواضع ذریعہ عذاب الہی سے نجات دلائیں گے۔( عیاض )12 عقل محو حیرت ہے کہ ان تمام بلند مقامات کے حامل انسان کی انکساری کا یہ عالم کہ اپنے اہل خاندان کو مخاطب کر کے فرمایا اے میری پھوپھی صفیہ بنت عبدالمطلب اور اے میری لخت جگر فاطمہ میں تم کو اللہ کے عذاب سے ہرگز نہیں بچا سکتا۔اپنی جانوں کی خود فکر کر لو۔( بخاری )13 اسی طرح نہایت درجہ انکسار کے ساتھ آپ اپنے صحابہ کو یہ سمجھاتے نظر آتے ہیں کہ تم میں سے کسی کو اس کے اعمال جنت میں لیکر نہیں جائیں گے۔صحابہ نے تعجب سے عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ کے عمل بھی ؟ آپ نے فرمایا ہاں! مجھے بھی اگر خدا کی رحمت اور فضل ڈھانپ نہ لیں تو میں بھی جنت میں نہیں جاسکتا۔( مسلم ) 14 حضرت عثمان بن مظعون کی تجہیز و تکفین کے موقع پر جب ایک انصاریہ اُم العلاء نے ان کے بارے میں جذباتی رنگ میں یہ کلمات کہے کہ اے عثمان تم پر اللہ کی رحمتیں ہوں میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا اکرام کیا ہے۔نبی کریم نے فوراً انہیں ٹو کا اور فرمایا تمہیں کیسے پتہ ہے کہ اللہ نے اس کی عزت کی؟ اسم العلامہ نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر ایسے نیک انسان کا اعزاز و اکرام نہیں تو پھر کس کا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا بس رہنے دو کسی وفات یافتہ کے لئے محض یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں اس کے لئے خیر و بھلائی کی امید رکھتا ہوں۔اور خدا کی قسم ! میں ( باوجودیکہ ) اللہ کا رسول ہوں مگر مجھے بھی علم نہیں کہ میرے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟ ( بخاری )15 عاجزی کے خوبصورت نمونے رسول اللہ کی روزمرہ زندگی میں عجز وانکساری کے خوبصورت نمونے موجود ہیں۔نبی کریم فرماتے تھے کہ میں تو عام مزدور سا آدمی ہوں۔عام انسانوں کی طرح کھاتا پیتا اور اٹھتا بیٹھتا ہوں۔آپ کی گھریلو زندگی بھی اس پر گواہ تھی۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر میلو کام کاج میں مدد فرماتے تھے۔آپ کپڑے خود دھو لیتے تھے، گھر میں جھاڑو بھی دے لیا کرتے ،خود اونٹ کو باندھتے تھے، اپنے پانی لانے والے جانو راونٹ وغیرہ کو خود چارہ ڈالتے تھے، بکری خود دوھتے ، اپنے ذاتی کام خود کر لیتے تھے۔خادم کے ساتھ اس کی مدد بھی کرتے ، اُس کے ساتھ مل کر آٹا بھی گوندھ لیتے ، بازار سے اپنا سامان خود اٹھا کر لاتے۔( احمد )16 اسی طرح حضرت عائشہ کی شہادت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی حسین اخلاق والا نہیں تھا۔آپ کے صحابہ میں سے یا اہل خانہ میں سے جب بھی کسی نے آپ کو بلایا تو ہمیشہ آپ کا جواب یہ ہوتا تھا لبیک کہ میں حاضر ہوں۔تب ہی تو قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے کہ آپ معظیم خلق پر قائم ہیں۔( ابن الجوزی) 17 حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم بیوگان اور مساکین کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ان کے ساتھ چل کر جانے میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔( دارمی) 18