اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 553 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 553

اسوہ انسان کامل 553 رسول اللہ کی حیرت انگیز تواضع رسول اللہ کی حیرت انگیز تواضع تواضع اور انکساری تکبر کی متضاد صفت ہے۔عام طور پر تواضع اور انکسار سے یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ ایک صاحب عزت انسان اپنے آپ کو تکلف کی راہ سے کم تر یا حقیر خیال کرے، حالانکہ ایسی خلاف حقیقت بات کو عمدہ خلق قرار نہیں دیا جاسکتا جبکہ تو اضع و انکسار ایک اعلیٰ درجے کا خُلق ہے۔انکسار دراصل ایثار کی ایک قسم ہے جو تھوڑی سی تبدیلی سے انکسار کا نام پاتی ہے۔منکسر المزاج وہ نہیں جو نالائق ہو اور پھر اپنی نالائقی کا اعلان کرے، بلکہ فی الحقیقت منکسر المزاج اور متواضع وہ انسان ہوتا ہے جو صاحب فضیلت ہوکر دوسروں کی خوبیوں کے مطالعہ میں ایسا مشغول ہو کہ اپنی لیاقت و فضیلت فراموش کر بیٹھے۔اس خُلق میں خوبی اور حسن یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور تو یہ مسیح ادب کا طریق ہے اور انسانوں کے ساتھ ایسا خلق اختیار کرنے سے امن قائم ہوتا ہے اور فسادمٹ جاتے ہیں۔اکثر جھگڑے اس لئے ہوتے ہیں، جب طرفین میں سے ہر فریق اپنے حق پر اڑا رہے۔اگر ان میں سے کوئی ایک اپنے حق کو ترک کر دے یا فریقین انکساری سے کام لیں تو جھگڑے ختم ہو جائیں۔پس انکسارد نیا کے امن وامان کے بڑھانے میں زبر دست آلہ ہے، جو ایثار کے ساتھ مل کر تمام فساد جڑ سے اکھیڑ دیتا ہے۔اللہ تعالی تکبر پسند نہیں کرتا اور فرماتا ہے اور لوگوں کے ساتھ گال پچھلا کر بات نہ کرو۔اور نہ ہی زمین میں اکڑ کر چلو۔اللہ تعالیٰ ہر اترانے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا“ (سورۃ بنی اسرائیل : 38 ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا کہ جس کے دل میں ایک دانہ کے برابر بھی کبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔( احمد ) 1 پس امن کی راہ انکساری میں ہے جو حضرت کبریاء کو بہت پیاری ہے۔سچا منکسرالمزاج وہ شخص ہے، جو کام کی اہلیت رکھتا ہو مگر خدا کے جلال پر نظر کرتے ہوئے اپنی کمزوری کا اقراری ہو، لیکن جب کام اس کے سپرد ہو جائے تو پھر پوری ہمت کے ساتھ وہ کام کرے جیسا کہ ہمارے سید و مولا حضرت محمد مصطفے ﷺ پہلی وحی پر یہ کہتے رہے کہ میں پڑھنے والا نہیں ہوں مگر جب ذمہ داری سپر د ہوگئی تو اسے اس طرح ادا کیا کہ ایک دنیا کو حیران کر دیا۔رسول کریم نے فرمایا الہ تعالیٰ نے مجھے وی فرمائی کہ تم تواضع اختیار کرو۔یہاں تک کہ کوئی شخص دوسرے پر فخر نہ کرے اور کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے۔(مسلم )2 اسی طرح آپ نے فرمایا جو شخص خدا کی خاطر تواضع کرتے ہوئے لباس (فاخرہ ) ترک کرتا ہے حالانکہ وہ اس کی تو فیق رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن سب مخلوق کے سامنے بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ لباس ایمان