اسوہء انسانِ کامل — Page 41
اسوہ انسان کامل 41 سوانح حضرت محمد علی رسول کریم ﷺ کے وصال کی خبر مدینہ میں بجلی کی طرح پھیل گئی۔صحابہ رسول کی دنیا اندھیر ہوگئی۔وہ مارے غم کے دیوانوں کی طرح ہو گئے۔حضرت عمرؓ جیسے جری انسان کے حواس کا یہ عالم تھا کہ آپ تلوار سونت کر کھڑے ہو گئے اور اعلان کر دیا کہ منافق کہتے ہیں رسول کریم ﷺہ وفات پاگئے۔دراصل آپ فوت نہیں ہوئے بلکہ حضرت موسقی کی طرح اپنے رب کے پاس گئے ہیں اور واپس آکر منافقوں کے ہاتھ پاؤں کاٹیں گے۔اتنے میں حضرت ابو بکر رسول کریم ﷺ کی میت کے پاس تشریف لائے ، آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا اور کہا اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا۔پھر انا للہ پڑھتے ہوئے باہر تشریف لائے اور حضرت عمرؓ کو خاموش کروا کے مجمع کو مخاطب کر کے فرمایا ”جو تم میں سے محمد کی عبادت کرتا تھا وہ یادر کھے کہ آپ وفات پاگئے ہیں۔اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ یقین رکھے کہ اللہ یقینا زندہ ہے اس پر کبھی موت نہ آئے گی۔پھر آپ نے یہ آیت پڑھی ومـــــــا مُحَمّد إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُل ( آل عمران : 145) که محمد صرف ایک رسول ہیں اور اس سے پہلے سب رسول وفات پاچکے ہیں۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکر نے یہ آیت تلاوت فرمائی تو خدا کی قسم یوں معلوم ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابھی یہ آیت نازل کی ہے۔اس وقت ہر شخص کی زبان پر یہی آیت تھی۔خود حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکر نے یہ آیت پڑھی تو مجھے یقین ہوا کہ آپ کا وصال ہو گیا ہے۔میں غم سے نڈھال ہو گیا اور غش کھا کر زمین پر گر گیا۔( بخاری ) 108 حضرت عائشہ فرماتی تھیں رسول اللہ کی وفات سے مسلمان صدمہ سے اس طرح ہو گئے جس طرح جاڑے کی اندھیری رات سے بکریاں پریشان ہوتی ہیں۔حضرت فاطمہ اس مصیبت کا نقشہ یوں بھینچتی ہیں کہ مجھ پر ایسی مصیبتیں آپڑیں کہ دنوں پر آتیں تو ان کو رات کر دیتیں۔حضرت حسان نے ایک شعر میں کیا عجب مرثیہ کہہ دیا جو تمام صحابہ کے جذبات کی بھی ترجمانی تھی کہ كُنتَ السَّوادَ لِنَاظِرِي، فَعَمِي عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنتُ أَحَاذِرُ یعنی اے میرے آقا! تو میری آنکھ کی پتلی تھا۔تیری موت سے میری آنکھ اندھی ہوگئی۔اب تیرے بعد کوئی شخص مرے مجھے اس کی پرواہ نہیں۔مجھے تو تیری موت کا ڈر تھا۔يَا رَبِّ صَلِّ عَلَى نَبِيِّكَ دَائِماً فِي هَذِهِ الدُّنْيَا وَ بَعْثٍ ثَانِ اے میرے رب! اپنے نبی ﷺ پر ہمیشہ درود بھیج۔اس دنیا میں بھی دوسرے جہاں میں بھی ! اللهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ على ال مُحَمَّدٍ وَ بَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ