اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 541 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 541

اسوہ انسان کامل 541 نبی کریم کی شان تو کل علی اللہ آخری زمانہ میں دجالی فتنوں سے بچنے کے لئے بھی رسول کریم نے خدا پر توکل کی تعلیم دی اور فرمایا کہ جو شخص دجال سے متاثر ہو کر اسے اپنا رب تسلیم کر بیٹھے گا وہ فتنہ میں مبتلا ہوگا اور جو اس کی ربوبیت کا انکار کر دے گا اور کہے گا کہ میرا رب اللہ ہے اسی پر میرا تو کل ہے تو اسے دجالی فتنہ کوئی ضررنہ پہنچا سکے گا۔(احمد )8 رسول اللہ اپنی دعاؤں کے بعد خدا پر کامل بھروسہ کا اظہار کرتے ہوئے یہ التجا کرتے۔اللهُمَّ هَذَا الدُّعَاء وَإِلَيْكَ الإِجَابَةُ ، اللهم هذا الجُهَدُ وَعَلَيْكَ التَّكِلانُ (ترندى) اے اللہ ! ( ہماری ) تو بس یہ دعا ہے۔اب اس کی قبولیت تیرے سپرد۔اے اللہ ! یہ ہے ہماری کوشش اب بھروسہ اور تو کل تجھ پر ہے۔رسول کریم فرماتے تھے کہ بدشگونی شرک ہے، آپ نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی اور پھر فرمایا ہم بدشگونی تو نہیں لیتے لیکن اگر کبھی ایسا خیال آبھی جائے تو اللہ تعالیٰ تو کل کے ذریعہ اسے دور فرما دیتا ہے۔(ابوداؤد ) 10 بعض لوگ متعدی مریض سے کوسوں دور بھاگتے ہیں۔رسول کریم کا تو کل اس حوالے سے بھی غیر معمولی تھا۔ایک دفعہ ایک جذام کا مریض مجلس میں موجود تھا۔کھانے کا وقت ہوا تو نبی کریم نے اپنے پیالے میں اسے کھانا کھلایا اور فرمایا اللہ پر بھروسہ اور اس پر تو کل کرتے ہوئے کھانا کھاؤ۔( ابوداؤد ) 11 رسول کریم نے اپنی امت کے ستر ہزار لوگوں کے بے حساب جنت میں داخل ہونے کا ذکر کیا اور فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہونگے جو دم کرنے کروانے پر بھروسہ نہیں کرتے نہ ہی بدشگونی لیتے ہیں بلکہ خدا پر توکل کرتے ہیں۔(مسلم )12 ظاہر ہے ان سب متوکلین کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ تھے۔رسول کریم نے خاص طور پر رزق کے بارہ میں اپنی امت کو اللہ پر توکل کرنے کی تعلیم دی۔آپ نے فرمایا اگر تم اللہ پر اس طرح تو کل کرو جیسے اس کے تو کل کا حق ہے تو تمہیں اس طرح رزق دیا جائے گا جیسے پرندوں کو رزق ملتا ہے۔جو صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس لوٹتے ہیں“۔(احمد (13) نیز فرمایا کہ ” جنت میں ایسے لوگ داخل ہوں گے جن کے دل پرندوں کے دل جیسے ہونگے“۔(مسلم ) 14 رسول کریم کے زمانہ میں دو بھائی تھے۔ایک آنحضرت کی مجلس میں حاضر ہوتا تھا اور دوسرا بھائی ہاتھ سے محنت کر کے کماتا تھا۔ایک دن اس نے رسول کریم سے اپنے اس بھائی کے بے کار رہنے کی شکایت کی تو رسول کریم نے فرمایا ” کیا پتہ تمہیں بھی اس کی وجہ سے رزق عطا کیا جاتا ہو؟“ (ترمذی) 15 رسول اللہ ﷺ اپنے باوفا غلاموں کو راہ مولا میں اذیتیں پاتے دیکھ کر اسی تو کل کی تعلیم فرماتے تھے۔حضرت یاسر کا خاندان کفار مکہ کی اذیتوں کا نشانہ بنتا تھا۔رسول کریم ان کو خدا پر بھروسہ کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتے۔اے آل یا سر صبر کرو۔میں تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں۔جب مکہ میں مسلمانوں پر مظالم کی انتہا ہوگئی اور بعض صحابہ