اسوہء انسانِ کامل — Page 529
529 رسول کریم کا عدیم المثال عفو و کرم اسوہ انسان کامل تو وہ جھوٹ بول گیا۔آپ مسکرائے اور اسے اپنے قریب کر کے پیار سے اُس کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔فضالہ بعد میں کہا کرتا کہ جب آنحضرت نے میرے سینے پر ہاتھ رکھا تو میری تمام نفرت دور ہوگئی اور مجھے ایسے لگا کہ دنیا میں سب سے پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔فضالہ نے اس حسن سلوک سے متاثر ہو کر اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔سیتھی دلوں کی فتح جو ہمارے آقا و مولا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن حاصل ہوئی۔(ابن ھشام ) 30 حضرت جعدہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم کی خدمت میں حاضر تھا۔ایک شخص کو پکڑ کر لایا گیا اور عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ ! یہ آدمی آپ کے قتل کے ارادے سے آیا تھا۔نبی کریم اسے فرمانے لگے گھبراؤ نہیں اور ڈرومت اگر تم نے میرے قتل کا ارادہ کیا بھی تھا تو بھی اللہ تجھے میرے قتل پر مسلط نہ کرتا اور اس کی توفیق نہ دیتا۔“ (طبرانی) 31 حضرت عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول کریم سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کے پاس کوئی بھی معاملہ پیش ہوا جس میں اللہ کے کسی ایسے حکم کو نہ توڑا گیا ہو جس کے نتیجہ میں حد لازم آتی ہے۔(جیسے زنا قتل وغیرہ) تو آپ نے ہمیشہ عفو سے کام لیا۔(ابن سعد ) 32 دشمن پر احسان محاصرہ طائف سے واپسی پر مشہور شاعر کعب بن زہیر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔دراصل ان کے والد زہیر نے اہل کتاب کی مجالس میں ایک نبی کی آمد کا ذکرسن رکھا تھا اور اپنے بیٹوں کو وصیت کی تھی کہ اسے قبول کریں۔رسول اللہ کی بعثت پر ان کے ایک بیٹے بجیر نے تو اسلام قبول کر لیا۔جب کہ کعب رسول اللہ اور مسلمان خواتین کی عزت پر حملہ کرتے ہوئے گندے اشعار کہتا تھا اور اس بناء پر رسول اللہ نے اس کے قتل کا حکم دیا تھا۔کعب کے بھائی نے اسے لکھا کہ مکہ فتح ہو چکا ہے اس لئے تم آکر رسول اللہ سے معافی مانگ لو۔چنانچہ اس نے رسول اللہ کی شان میں ایک قصیدہ لکھا جو " انت سُعادُ “ کے نام سے مشہور ہے۔وہ مدینہ آ کر اپنے ایک جاننے والے کے پاس ٹھہرا۔اہل مدینہ میں اسے کوئی پہچانتانہ تھا۔اس نے فجر کی نماز نبی کریم کے ساتھ مسجد نبوی میں جا کر ادا کی اور رسول اللہ کی خدمت میں اپنا تعارف کرائے بغیر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ ! کعب بن زہیر تا ئب ہو کر آیا ہے اور معافی کا خواستگار ہے اگر اجازت ہو تو اسے آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے؟ آپ نے فرمایا ”ہاں“ تو کہنے لگا ”میں ہی کعب بن زہیر ہوں “ یہ سنتے ہی ایک انصاری حضور کے سابقہ حکم کے مطابق اسے قتل کرنے کے لئے اُٹھے۔رسول اللہ نے فر مایا نہیں اب اسے چھوڑ دو، یہ معافی کا خواستگار ہو کر آیا ہے۔پھر اس نے اپنا قصیدہ حضور کی شان میں پیش کیا جس میں یہ شعر بھی پڑھا۔إِنَّ الرَّسُوْلَ لَسَيْفٌ يُسْتَضَاءُ به مُهَنَّدٌ مِنْ سَيُوفِ اللَّهِ مَسْلُوك