اسوہء انسانِ کامل — Page 513
513 مذہبی رواداری اور آزادی ضمیر کے علمبردار اسوہ انسان کامل عاریہ امداد اور اسلامی دستوں کی مہمان نوازی کی شرائط صاف بتا رہی ہیں کہ اہل نجران سے مخصوص شرائط اور معمولی سالانہ ٹیکس پر مصالحت طے پائی تھی۔اور امام ابو یوسف کا یہ موقف بجاطور پر درست ہے کہ اہل نجران سے جزیہ وصول نہیں کیا گیا بلکہ عام ٹیکس یا فدیہ مقرر کیا گیا۔یوں بھی نجران کا پہلا وفد جب ۲ھ میں مدینہ آیا اس وقت ابھی جزیہ کے احکام نہیں اترے تھے اس لئے جو نمائندہ وفد معاہدہ کی مجوزہ شرائط نجران کے حکومتی ارکان سے مشورہ کی خاطر ساتھ لے کر گیا اس میں جزیہ کا ذکر نہیں ہو سکتا تھا۔عیسائی مؤرخ یہ معاہدہ انصاف و رواداری نقل کرتے ہوئے ششدر ہو کر رہ جاتے ہیں۔چنانچہ مسٹر کر ینسٹن اپنی کتاب World Faith میں ان معاہدات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔"Has any conquering race or faith given to its subject nationalities a better guarantee than is to be found in these words of the prophet? It would be hard to find a more tolerant and tuely and brotherly statement in the teaching of any religion۔Thirteen hundred years before the Atlantic Charter incorporated freedom of religion and freedom from fear, Mohammad made treatico with Jewish and Christian tribes he had conquered and gave them freedom of religions worship and local self government۔In many muslim invaded countries there has been conspicuocsly fair and just treatment of non-muslim population" یعنی ” کیا دنیا میں کسی فاتح قوم یا مذ ہب نے اپنی مفتوح قوموں کو اس سے بڑھ کر تحفظات کی ضمانت دی ہے جو ہادی اسلام علی کے ان الفاظ میں موجود ہے؟۔۔دنیا کے کسی مذہب میں اس سے زیادہ روادارانہ اور حقیقی طور پر برادرانہ تعلیم تلاش کرنا مشکل ہے۔اٹلانٹک چارٹر میں تو مذہبی آزادی اور دہشت و ہر اس سے نجات کو انسانی حقوق میں آج شامل کیا گیا ہے لیکن اٹلانٹک چارٹر سے بھی تیرہ سو سال پیشتر محمد نے یہودی اور عیسائی قبیلوں سے ان پر فتح حاصل کرنے کے بعد جو معاہدات کئے ان میں مذہبی عبادات کی آزادی اور مقامی لحاظ سے ان کی خود مختاری کو تسلیم کیا گیا تھا۔“ (کرمینسٹن )42 دیگر عیسائی قبائل کو برا نہ مذہبی آزادی عرب میں نجران کے عیسائیوں کے علاوہ دوسرا بڑا عیسائی کٹر قبیلہ تغلب تھا۔جن پر ٹیکس کی ادائیگی پر صلح ہوئی۔