اسوہء انسانِ کامل — Page 511
511 مذہبی رواداری اور آزادی ضمیر کے علمبردار اسوہ انسان کامل خندق میں اتر کر اسے قتل کر دیا۔اب اس کی نعش مسلمانوں کے قبضہ میں تھی۔مشرکین نے اسے باعزت دفن کرنے کے لئے نعش کی واپسی کا مطالبہ کیا اور بارہ ہزار درہم تک پیشکش کی۔رسول کریم نے فرمایا نہ تو ہمیں اس کے جسم کی ضرورت ہے نہ قیمت کی۔ان کا مردہ انہیں واپس لوٹا دو تا کہ وہ اسے حسب منشا دفن کر سکیں۔مردے کو فروخت کرنا کوئی قابل عزت بات نہیں پھر آپ نے کوئی رقم لئے بغیر وہ نعش دشمنوں کو واپس لوٹا دی۔(ابن ہشام )32 رواداری کی نادر مثالیں فتح خیبر کے بعد یہود سے مسلمانوں کی مصالحت ہوگئی اور وہاں کی زمین نصف پیداوار کی شرط پر ان کو بٹائی پر دی گئی۔ایک مسلمان عبد اللہ بن سہل اپنے ساتھی محیصہ کے ہمراہ خیبر گئے۔عبداللہ یہودی علاقہ میں قتل کر دیئے گئے۔رسول کریم کی خدمت میں مقدمہ پیش ہوا۔آپ نے مقتول کے مسلمان مدعیان سے فرمایا کہ تمہیں اپنے دعویٰ کا ثبوت بصورت شہادت دینا ہوگا یا پھر قاتل کے خلاف قسم تا کہ اس کا قصاص لیا جائے۔جب مدعیان نے کوئی عینی شاہد نہ ہونے کی وجہ سے کوئی ثبوت پیش کرنے سے معذوری ظاہر کی تو نبی کریم نے فرمایا کہ پھر یہود پچاس قسمیں دے کر بری الذمہ ہو سکتے ہیں۔مسلمانوں نے عرض کیا کہ کافروں کی قسم کا ہم کیسے اعتبار کر لیں؟ چنانچہ نبی کریم نے ثبوت موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسلامی حکومت کی طرف سے اس مسلمان کی دیت ادا کر دی۔اور یہود پر کوئی گرفت نہ فرمائی۔( بخاری )33 رسول کریم ﷺ نے ہمیشہ غیر مذاہب کے لوگوں سے خوشگوار تعلقات رکھے۔چنانچہ آپ نے مدینہ میں ایک یہودی لڑکے کو اپنی گھریلو خدمت کے لئے ملازم رکھا ہوا تھا۔جب وہ بیمار ہوا تو اس کی عیادت کو خود تشریف لے گئے۔( احمد ) 34 آپ بلا امتیاز رنگ و نسل و مذہب وملت دعوت قبول فرماتے تھے۔ایک دفعہ ایک یہودی کی معمولی دعوت قبول فرمائی جس میں اس نے جو اور چربی پیش کئے۔( ابن سعد ) 35 یہود مدینہ سے آخر وقت تک نبی کریم کا لین دین اور معاملہ رہا۔بوقت وفات بھی آپ کی زرہ ایک یہودی کے ہاں تیں صاع غلے کے عوض رہن رکھی ہوئی تھی۔( بخاری )36 عیسائی قوم سے حسن سلوک قرآن شریف میں عیسائیوں کی یہ خوبی بیان ہوئی ہے کہ تم غیر قوموں میں سے عیسائیوں کو نسبتا اپنے زیادہ قریب اور محبت کرنے والا پاؤ گے۔“ (سورۃ المائدۃ: 83) نجران کے عیسائیوں کا وفد رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوا۔بحث و مباحثہ کے دوران ان کی عبادت کا وقت آگیا۔نبی کریم نے انہیں مسجد نبوی میں ہی ان کے مذہب کے مطابق مشرق کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے کی اجازت فرمائی۔( ابن سعد ) 37