اسوہء انسانِ کامل — Page 506
اسوہ انسان کامل 506 مذہبی رواداری اور آزادی ضمیر کے علمبردار بھی نہیں آئے گا۔جب تک رسول اللہ اجازت نہ فرمائیں۔قریش ثمامہ کو قتل کرنے لگے مگر بعض سرداروں کی سفارش پر کہ یمامہ سے تمہیں غلہ وغیرہ کی ضرورت ہے۔ان سے دشمنی مول نہ لو۔چنانچہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ثمامہ نے یمامہ جا کر واقعی اہل مکہ کا غلہ روک دیا۔یہاں تک کہ وہاں قحط پڑ گیا۔تب قریش نے رسول اللہ کی خدمت میں لکھا کہ آپ تو دعوی کرتے ہیں کہ رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں اور صلہ رحمی کی تعلیم دیتے ہیں۔مگر ہمارا تو غلہ تک رکوا دیا۔رسول کریم نے تمامہ کولکھا کہ قریش کے غلہ کے قافلے مکہ جانے دیں۔چنانچہ انہوں نے تعمیل ارشاد کی، اس طرح اپنی دشمن قوم قریش پر یہ آپ نے ایک گراں قد را در عظیم احسان فرمایا۔(الحلبیہ (7 مشرکین کے بچوں کے قتل پر ناراضگی مشرکین مکہ نے غزوہ احد کے موقع پر مسلمان شہدا کی نعشوں کی بے حرمتی کی تھی اور اُن کے ناک، کان وغیرہ کاٹے گئے تھے۔حضرت حمزہ کا کلیجہ تک چبایا گیا۔مگر آنحضرت ﷺ نے کبھی اس کا بدلہ لینے کا نہیں سوچا بلکہ ہمیشہ اُن کے ساتھ حسن سلوک ہی کیا۔حضرت حسن بن اسود بیان کرتے ہیں کہ ایک غزوہ کے موقع پر مقتولین میں کچھ بچوں کی نعشیں بھی پائی گئیں۔حضور" کو جب پتہ چلا تو آپ نے فرمایا یہ کون لوگ ہیں؟ جنہوں نے جنگجو مردوں کے ساتھ معصوم بچوں کو بھی قتل کر ڈالا۔ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ مشرکوں کے بچے ہی تو تھے۔نبی کریم نے فرمایا، آج تم میں سے جو بہترین لوگ ہیں وہ بھی کل مشرکوں کے بچے ہی تو تھے۔یاد رکھو کہ کوئی بھی بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو نیک فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔اس کی یہ کیفیت اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک وہ بولنا سیکھتا ہے اس کے بعد اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں۔( احمد ) 8 رسول کریم سے پوچھا گیا مشرکوں کے بچوں کا حساب کتاب کیسے ہوگا ؟ فرمایا وہ اپنے والدین کے مذہب پر شمار ہوں گے۔عرض کیا گیا پھر تو وہ بغیر کسی عمل کے پکڑے گئے فرمایا اللہ بہتر جانتا ہے وہ کیا کرنے والے تھے۔(ابوداؤد )9 تعاقب کر نیوالے دشمن کو انعام ہجرت مدینہ کے وقت قریش مکہ نے آنحضرت اللہ کو گرفتا ر کر کے لانے والے کیلئے سو اونٹ کا انعام مقرر کیا تھا۔جس کے لالچ میں سراقہ بن مالک نے اپنے تیز رفتار گھوڑے پر رسول اللہ کا تعاقب کیا۔مگر جب آپ کے قریب پہنچا تو اس کے گھوڑے کے پاؤں زمین میں ھنس گئے۔جب تین مرتبہ ایسا ہوا تو وہ تو بہ کر کے معافی اور امان کا طالب ہوا۔رسول کریم نے اسے امان عطا کرتے ہوئے بطور انعام کسری کے کنگنوں کی بشارت دی۔فتح مکہ پر وہ مسلمان ہوا اور رسول اللہ کے دامن رحمت سے حصہ پایا۔بعد میں حضرت عمرؓ کے زمانہ میں کسری کے کنگن بھی اُسے عطا کئے گئے۔یوں آپ کا تعاقب کرنے والا بد خواہ بھی آپ کے انعام واکرام کا ہی مور دٹھہرا۔( بخاری ) 10