اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 37 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 37

اسوۃ انسان کامل 37 سوانح حضرت محمد علی قریش کے بعض سرداروں کو فیاضی سے اونٹوں وغیرہ کے انعامات عطا فرمائے بعض انصار نو جوانوں نے آپس میں چہ مگوئیاں کیں کہ خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال غنیمت اپنے ہم وطن قریش رشتہ داروں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔رسول کریم ﷺ کو پتہ چلا تو انصار کو اکٹھا کر کے اس بارہ میں پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے چند بے وقوف نو جوانوں کی زبان سے یہ بات نکلی ہے ورنہ ہم نے کوئی شکایت نہیں کی۔اس پر رسول کریم ﷺ نے اسلام کے ذریعہ حاصل ہونے والے انعامات ، دولتِ ایمان اخوت و وحدت ، ظاہری فراخی وغیرہ کا ذکر کیا جس پر انصار نے کہا بے شک یہ اللہ اور اس کے رسول کا ہم پر احسان ہے۔آپ نے فرمایا ” تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ جب دنیا نے مجھے جھٹلایا اور چھوڑ دیا تم نے پناہ دی اور مرد کی مگر کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ لوگ اپنے گھروں میں بھیٹرمیں اور بکریاں ساتھ لے جائیں اور تم اللہ کا رسول ساتھ لے جاؤ۔آپ نے انصار سے اپنی محبت کا اس جذباتی رنگ میں ذکر کیا کہ ان کے دل پگھل گئے اور آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہو گئے۔( بخاری ) 95 جنگ حنین سے بھاگنے والوں نے مشرکین طائف کے پاس جا کر پناہ لی تھی۔رسول کریم ﷺ نے فتح حنین کے بعد طائف کا محاصرہ کیا جو ہمیں دن جاری رہا۔مگر جب کوئی نتیجہ نہ نکلا تو آپ نے صحابہ کے مشورہ سے محاصرہ اٹھا کر لشکر اسلام کو واپسی کا حکم دیا۔جنگ تبوک سفر فتح مکہ سے واپسی کے بعد 9ھ میں رسول کریم ﷺ کو اطلاع ملی کہ جنگ موتہ کا انتقام لینے کے لئے غستانی بادشاہ بہت بڑا لشکر تیار کر رہا ہے اور ہر قل کی فوجی امداد کے ساتھ وہ مدینہ پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔رسول کریم ﷺ نے تمام قبائل کو قیصر روم کے مقابلہ کے لئے جلد مدینہ پہنچنے کی اطلاع کروائی۔اس لشکر عظیم کی تیاری کے لئے اخراجات کی ضرورت تھی۔آپ کی تحریک پر لبیک کہتے ہوئے صحابہ کی مالی قربانی کے حیرت انگیز نمونے دیکھنے میں آئے۔حضرت ابو بکر ا پنا سارا مال لے آئے تو حضرت عمرؓ نے نصف پیش کر دیا۔حضرت عثمان نے تمام تجارتی سرمایہ چندہ میں دے دیا۔دیگر صحابہ نے بھی حسب توفیق بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔رسول کریم ع میں ہزار کا شکر جرار لے کر مدینہ روانہ ہوئے۔حضرت علی کو آپ نے اپنے بعد مدینہ کا امیر مقرر فرمایا۔منافقین نے ان کو پیچھے چھوڑ جانے کے طعنے دیئے تو رسول کریم ﷺ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا اے علی ! کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ تو مجھ سے ایسا ہی ہے جیسے موسی کو ہارون" تھے۔سوائے اس کے کہ تو نبی نہیں ہے۔اس سفر میں رسول کریم و قوم ثمود کی تباہ شدہ بستیوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا’یہاں سے استغفار کرتے ہوئے جلدی سے گزر جاؤ۔چودہ منزلیں طے کرنے کے بعد آپ تبوک پہنچے تو پتہ چلا کہ قیصر روم کی امداد محض افواہ تھی۔اسلامی لشکر جرار کی خبر سن کرغستانی بادشاہ کی فوج کے حوصلے ایسے پست ہوئے کہ وہ ادھر ادھر منتشر ہو گئے۔