اسوہء انسانِ کامل — Page 504
504 مذہبی رواداری اور آزادی ضمیر کے علمبردار اسوہ انسان کامل میں ہر مذہب سچائی پر قائم تھا مگر بعد میں اپنے نبی کی تعلیم سے انحراف کی وجہ سے بگاڑ پیدا ہوا۔تاہم اب بھی ہر مذہب میں کچھ حصہ ہدایت کا موجود ہے۔(سورۃ النحل:64) آپ نے یہ تعلیم بھی دی کہ سب اقوام کے نبی مقدس اور برگزیدہ تھے، اس لئے وہ منافرت دور کرنی چاہئے جو دائرہ ہدایت کو محدود کرنے سے پیدا ہوتی ہے اور باوجود مذہبی اختلاف کے دیگر اقوام و مذاہب سے اتحاد رکھنا چاہئے اور انسانیت کے ناطے ان کے ساتھ محبت و پیار کا سلوک کرنا چاہیئے۔پانی اسلام کا نمونہ اسلام دیگر مذاہب کے پیروؤں کے احساسات کا احترام سکھاتا ہے کہ خواہ وہ حق پر نہ ہوں۔مگر چونکہ وہ سچ سمجھ کر اس مذہب کو مان رہے ہیں انہیں اپنے مسلک پر قائم رہنے کا حق ہے۔مدینہ میں ایک مسلمان اور یہودی کے مابین رسول اللہ اور حضرت موسیٰ کی فضیلت کا تنازعہ کھڑا ہوا تو رسول کریم نے فرمایا کہ مجھے موی پر فضیلت مت دو۔( بخاری )2 بانی اسلام نے محض مذہبی اختلاف کی بناء پر دوسری قوم پر حملہ کرنے کی تعلیم نہیں دی۔صرف ان اقوام سے دفاعی جنگ کی اجازت دی ہے جو مسلمانوں پر حملہ کرنے میں پہل کریں۔چنانچہ فرمایا ” ان لوگوں سے اللہ کی راہ میں لڑائی کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں۔اور زیادتی نہ کرو۔اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“ (سورۃ البقرہ: 191) پھر رسول کریم نے غیر مذاہب اور اقوام سے معاہدات کو پورا کرنے کی تعلیم دی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔و اگر کوئی غیر قوم مسلمانوں پر ظلم اور زیادتی کی مرتکب ہو اور وہ مسلمان تم سے مدد کے طالب ہوں اور تمہارا اس قوم کے ساتھ پہلے سے کوئی معاہدہ ہو تو اسے پورا کرنا ضروری ہے اور مظلوم مسلمانوں کی خاطر بھی اس عہد شکنی کی اجازت نہیں۔(سورۃ الانفال : 73) البتہ اگر وہ لوگ عہد شکنی کریں تو مسلمانوں کو جوابی کاروائی کا حق ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دو اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا خدشہ ہو تو ان سے ویسا ہی کرو جیسا کہ انہوں نے کیا ہے۔اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“ (سورۃ الانفال: 59) پھر اسلام نے محض عدل کی ہی تعلیم نہیں دی بلکہ اس سے آگے بڑھ کر احسان کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔(سورۃ النحل : 91 ) اسلام غیر قوموں سے تمدنی تعلقات قائم کرنے ، انصاف اور نیکی کا سلوک کرنے کی ہدایت فرماتا ہے۔یہودی مذہب کی طرح یہ نہیں کہتا کہ صرف یہود سے سود نہ لو۔(استثناء ) 3 بلکہ قرآن شریف نے سود کو حرام کر کے سب کے لئے منع کر دیا اور یہ اعلی درجہ کی تمدنی تعلیم دی:۔جن لوگوں نے دین کے بارہ میں تم سے لڑائی نہیں کی اور تمہیں جلا وطن نہیں کیا۔ان کے ساتھ احسان کا سلوک کرنے اور منصفانہ برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا۔(الممتحنة: 9) حضرت اسماء بنت ابو بکر کی ( مشرک ) والدہ اداس ہو کر انہیں ملنے مدینہ آ ئیں۔اسماء نے نبی کریم سے پوچھا کہ کیا مجھے ان کی خدمت کرنے اور ان سے حسن سلوک کی اجازت ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں وہ تمہاری ماں ہے۔ابن عیینہ