اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 503 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 503

اسوہ انسان کامل دیتا ہے:۔503 مذہبی رواداری اور آزادی ضمیر کے علمبردار ایسی قوم جس نے تمہیں بیت اللہ سے روکا ، اس کی دشمنی تمہیں اس بات پر نہ اکسائے کہ تم زیادتی کر بیٹھو بلکہ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔“ (سورۃ المائدۃ: 3) دوسری جگہ فرمایا اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔انصاف کرو کہ یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔“ (سورۃ المائدۃ:9) اسلام نے صرف یہ اصولی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ تفصیل میں جا کر مشرکین کے برابر کے حق قائم فرمائے۔چنانچہ زمانہ جنگ میں اگر مومن عورتیں دار الحرب سے دار الاسلام کی طرف ہجرت کر کے آجائیں تو انہیں واپس کرنے کی بجائے ان کی مشرک قوم میں ان عورتوں کے ولی کو وہ اخراجات ادا کرنے کا حکم ہے جو انہوں نے ان مومن عورتوں پر کئے۔اور کافر عورتوں سے زبردستی نکاح کرنے اور انہیں اپنے پاس روک رکھنے سے منع فرمایا اور انہیں واپس مشرکین کے پاس لوٹاتے ہوئے مسلمانوں کو ان اخراجات کے مطالبہ کا حق دیا جس طرح کفار کو یہ حق حاصل ہے۔(سورۃ الممتحنة:11) اسلام نے دشمن قوم حتی کہ مشرکین کا امن کے ساتھ زندہ رہنے کا حق بھی تسلیم کیا ہے چنانچہ فرمایا۔اور مشرکوں میں سے اگر کوئی تجھ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے یہاں تک کہ وہ کلام الہی سن لے پھر ا سے اس کی محفوظ جگہ تک پہنچا دے یہ ( رعایت ) اس لئے ہے کہ وہ ایک ایسی قوم ہیں جو علم نہیں رکھتے۔(سورۃ التوبۃ:6) رسول کریم کے ذریعہ رواداری کی بید اعلی تعلیم دی گئی کہ غیر مذہب یا قوم میں بھی جو خوبی یا تیکی پائی جاتی ہو اس کی قدردانی کرنی چاہئے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔سارے اہل کتاب برابر نہیں ہیں ان میں سے ایک جماعت ( نیکی پر قائم ہے۔جو راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے اور عبادت کرتے ہیں“۔(سورۃ آل عمران : 114) اسی طرح بعض یہود و نصاری کی دیانت کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ ان کے پاس ڈھیروں ڈھیر مال بھی بطور امانت رکھ دو تو وہ تمہیں واپس کر دیں گے مگر بعض ایسے بھی ہیں جو ایک دینار بھی واپس نہیں لوٹائیں گے۔“ (سورۃ آل عمران : 76) بعض نیک فطرت خدا ترس عیسائیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ” جب وہ رسول کی طرف نازل ہونے والا کلام سنتے ہیں تو آپ ان کی آنکھوں میں آنسو بہتے دیکھتے ہیں، اس وجہ سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ہم ایمان لائے ، پس تو ہمیں گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔“ (سورۃ المائدہ 84) بانی اسلام نے رواداری کی یہ تعلیم بھی دی ہے کہ مذہبی بحثوں کے دوران جوش میں آکر دوسرے مذہب کی قابل احترام ہستیوں کو برا بھلا نہ کہو۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور تم ان کو گالیاں نہ دو۔جن کو وہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔ورنہ وہ بھی اللہ کو دشمنی کی راہ سے نادانی میں گالی دیں گے۔“ (سورۃ الانعام: 109 ) رسول کریم نے اس بنیادی حقیقت سے پردہ اُٹھا کر بانیان مذاہب کے احترام کی تعلیم دی کہ ہر قوم میں نبی آئے اور آغاز