اسوہء انسانِ کامل — Page 497
497 ہمارے نبی حامی و ایامی کے والی اور محافظ اسوہ انسان کامل نے اسے دیکھ کر پیار سے فرمایا اے لڑکی اتم اتنی بڑی ہوگئی ہو۔تم تو چھوٹی ہی رہو۔یتیم بچی نے سوچا کہ رسول کریم کے منہ سے بات نکلی ہے۔اب پتہ نہیں آئندہ میں بڑی بھی ہو سکتی ہوں کہ نہیں۔وہ روتی ہوئی حضرت ام سلیم کے پاس گئی اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے بڑے نہ ہونے کی دعا کر دی ہے۔اب میں کبھی بھی بڑی نہیں ہوسکوں گی۔حضرت ام سلیم کو بھی اپنی یتیم بچی بہت پیاری تھی۔فوراً اپنی اوڑھنی لی اور بی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔اے اللہ کے نبی ! کیا آپ نے میری یتیم بچی کے بارہ میں واقعی یہ دعا کی ہے کہ وہ کبھی بڑی نہ ہو اور ہمیشہ چھوٹی ہی رہے۔رسول کریم ﷺ اس پر مسکرائے اور فرمایا اے ام سلیم ! کیا تمہیں پتہ نہیں کہ میں نے اپنے رب سے ایک دعا کی ! ہوئی ہے کہ ایک انسان ہونے کے ناطہ سے میں خوش بھی ہوتا ہوں اور ناراض بھی۔اس لئے اے اللہ ! اگر میں اپنی امت کے کسی فرد کے بارہ میں ایسا کلمہ کہ دوں جو اس کے حسب حال نہ ہو تو اسے اس شخص کے لئے پاکیزگی برکت اور قربت کا ذریعہ بنا دے جس سے وہ قیامت کے دن قرب حاصل کرے۔( ترمذی ) 35 محسن انسانیت ﷺ کو یتیم بچوں کے مال کی حفاظت کا اتنا خیال تھا کہ ایک دفعہ ایک شخص نے آنحضور کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے پتہ چلا ہے کہ شراب حرام ہو گئی ہے۔آپ نے فرمایا ہاں ! اس نے پوچھا کہ جس سے میں نے یہ خریدی تھی کیا اسے میں واپس لوٹا سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا یہ مناسب نہیں ہے۔اس نے کہا کیا میں یہ بطور تحفہ کسی ایسے شخص کو دے سکتا ہوں جو مجھے اس کے بدلہ میں کوئی اور تحفہ دے دے؟ آپ نے فرمایا نہیں۔اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! دراصل اس میں ایسے یتیم بچوں کا مال بھی شامل ہے جو میری پرورش میں ہیں۔یہ سن کر آپ جیسے بے چین ہو گئے اور فرمایا ” جب بحرین کا مال آئے گا تو تم ہمارے پاس آجانا تمہارے زیر پر ورش یتیم بچوں کے مالی نقصان کا معاوضہ ہم ادا کریں گے“۔(حیشمی )36 ہمارے پیارے نبی ﷺ نے اس قرآنی حکم کے مطابق کہ بیوہ عورتوں کے نکاح کا انتظام کیا کرو۔(سورۃ النور: 33) بیوگان کے مناسب حال رشتوں کے لئے خود بھی عملی نمونہ پیش کیا۔رسول اللہ نے جو شادیاں کیں ان میں دیگر مصالح کے علاوہ ایک اہم مصلحت بیوگان کے لئے سہارا مہیا کرنا بھی تھا۔چنانچہ آپ نے نو خواتین سے بیوہ ہونے کی حالت میں نکاح کیا۔پہلی شادی حضرت خدیجہ سے بھی ہیوگی کی حالت میں ہوئی۔ان کے سابق شوہر سے دو یتیم بچے ھند اور ھالہ بھی تھے جو حضور کی کفالت میں آکر ز مر تر بیت رہے۔ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ غزوہ بدر میں اپنے شوہر عبیدہ کی شہادت کے بعد بیوہ ہوئیں تو ان سے آپ کا نکاح ہوا۔یہی صورت حضرت ام سلمہ اور حضرت حفصہ سے نکاح کی تھی۔رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احد میں زخمی ہونے والے اپنے عزیز صحابی حضرت ابوسلمہ کی شہادت کے بعد ان کی بیوہ حضرت ام سلمہ سے نکاح کر کے قومی ضرورت کے تقاضے پورے کئے۔آپ کے گھر میں حضرت ام سلمہ کے یتیم بچے بھی زیر پرورش رہے۔دوسری طرف ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھ کر حضرت ام سلمہ سے فرمایا کہ ان بچوں پر خرچ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں اجر بھی عطا فرمائے گا۔آپ خود ان کے یتیم بچے سلمہ کو دستر خوان پر اپنے پاس بٹھا کر کھانا