اسوہء انسانِ کامل — Page 36
اسوہ انسان کامل 36 سوانح حضرت محمد علی عکرمہ جو جان بچانے کی خاطر بھاگ گیا تھا اس کی بیوی کی درخواست پر آپ نے اسے امان عطا فرمائی وہ یہ احسان دیکھ کر مسلمان ہو گیا۔(ابن ہشام ) 93 آپ نے اپنے خونی قاتلوں کو نہ صرف معاف کیا بلکہ انعام واکرام سے نوازا۔اپنے چا حمزہ کے قاتل وحشی کو بھی آپ نے معاف فرما دیا۔آپ کے اس بے نظیر عفو کا نتیجہ یہ نکلا کہ سارا عرب جوق در جوق مسلمان ہونے لگا۔رسول کریم ﷺ مسلمان ہونے والوں سے ان الفاظ میں بیعت لیتے تھے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے ، چوری اور زنا نہیں کریں گے ، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے، کسی پر بہتان نہ باندھیں گے اور امر معروف میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے“۔(سورۃ الممتحنہ : 13) جنگ حنین فتح مکہ کی خبر کے بعد پریشان ہو کر طائف کے قبائل ہوازن اور ثقیف نے اردگرد کے قبائل کی مدد سے ایک زبر دست لشکر تیار کیا۔رسول کریم ﷺ کو اطلاع ہوئی تو آپ بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ وادی حنین پہنچے۔ہوازن کے لوگ جو مشہور تیرانداز تھے کمین گاہوں میں گھات لگا کر بیٹھ گئے اور مسلمانوں کے وادی میں داخل ہوتے ہی ان پر تیروں کی بوچھاڑ کر دی لشکر کے آگے آگے وہ دو ہزار نو مسلم تھے جو حضرت خالد بن ولید کی سرکردگی میں اپنی کثرت پر نازاں ہو کر جارہے تھے۔یہ لوگ حواس باختہ ہو کر بھاگے تو مسلمانوں کے گھوڑے اور اونٹ بھی بدک کر بھاگنے لگے۔رسول کریم سے وادی کے دائیں اپنے چند جاں نثاروں کے ساتھ سفید فیچر پر سوار ہو کر نعرہ لگاتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے کہ میں نبی ہوں۔یہ جھوٹ نہیں اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں“۔صلى الله الله رسول کریم ﷺ کے حکم پر حضرت عباس نے انصار و مہاجرین قبائل کے نام لے کر پکارا کہ خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے۔وہ یہ آواز سن کر بد کی ہوئی سواریوں سے چھلانگیں لگا کر میدان میں واپس پلٹے اور رسول کریم ﷺ کے گرد جمع ہونے لگے اور آپ کی معیت میں دشمن پر پوری قوت سے ہر طرف سے حملہ کر دیا۔تھوڑی دیر میں لڑائی کا نقشہ بدل گیا۔مسلمانوں کو فتح ہوئی۔چوبیس ہزار اونٹ ، چالیس ہزار بھیڑ بکریاں ، چار ہزار اوقیہ چاندی اور چھ ہزار قیدی مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔پھرانہ مقام پر رسول کریم ﷺ نے مال غنیمت میں سے بیت المال کے لئے پانچواں حصہ الگ کر کے باقی سب اموال سپاہیوں میں تقسیم فرما دیئے۔ہوازن کا وفد آپ کی رضاعی والدہ حلیمہ کا واسطہ دیگر معافی کا طالب ہوا۔آپ نے اپنے اور بنو مطلب کے حصہ کے قیدی آزاد کر دیے۔اس طرح چھ ہزار قیدی ایک دن میں رہا ہوئے۔انہی میں آپ کی رضاعی بہن شیماء بھی تھیں جنہیں آپ نے ان کی خواہش کے مطابق انعام واکرام دے کر رخصت کیا۔( بخاری، ابن ہشام )94 مال غنیمت کی تقسیم کے بعد رسول کریم ﷺ نے بیت المال کے حصہ میں سے تالیف قلبی کے طور پر