اسوہء انسانِ کامل — Page 456
اسوہ انسان کامل 456 اہلی زندگی میں رسول کریم کا بہترین نمونہ قسم ہے کہ تم ضرور دروازہ کھولوگی۔میں نے کہا آپ میری باری میں کسی اور بیوی کے ہاں کیوں گئے تھے۔آپ نے فرمایا میں نے تو ایسا نہیں کیا۔مجھے تو پیشاب کی شدید حاجت محسوس ہوئی اس کے لئے باہر نکلا تھا۔(ابن سعد ) 56 اہل خانہ کیلئے ایثار آپ جائز حد تک اپنی بیویوں کی خاطر اپنے نفس کی قربانی میں کوئی تامل نہ فرماتے تھے۔ایک دفعہ آنحضرت ملے نے ایک بیوی کے ہاں ٹھہر کر شہد کا شربت پیا ، وہاں معمول سے کچھ زیادہ آپ کا وقت لگ گیا تو حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے از راہ غیرت شہد ترک کروانے کی خاطر حضور سے شہد کی خاص بو کی شکایت اس انداز میں کی کہ لگتا ہے حضور نے فلاں بدبودار بوٹی کا رس چوسنے والی مکھی کا شہد پیا ہے۔حضور کے لئے یہ اشارہ کافی تھا۔آپ نے دونوں بیویوں کے جذبات کی خاطر شہد ہمیشہ کے لئے ترک کرنے کا عزم کر لیا اور فرمایا کہ اب میں کبھی شہد کا شربت نہ پیئوں گا۔( بخاری (57) یہاں تک کہ قرآن شریف میں آپ گوارشاد ہوا کہ اے نبی محض اپنی بیویوں کی رضامندی کی خاطر اللہ کی حلال چیزوں کو کیوں حرام کرتے ہو۔(سورۃ التحریم : 2 ) آپ بیویوں کی باتیں جس حد تک سنتے اور برداشت فرماتے تھے اس پر ازواج مطہرات کے عزیز واقارب کو تو تعجب ہوتا تھا، مگر آنحضرت نے کبھی اس کا بڑ انہیں منایا اور اپنی نرم خوئی میں کبھی بھی اور درشتی نہیں آنے دی۔کمال عفو ایک دن حضرت عائشہ گھر میں آنحضرت ﷺ سے کچھ تیز تیز بول رہی تھیں کہ اوپر سے ان کے ابا حضرت ابو بکر تشریف لائے۔یہ حالت دیکھ کر ان سے رہا نہ گیا اور اپنی بیٹی کو مارنے کیلئے آگے بڑھے کہ خدا کے رسول کے آگے اس طرح بولتی ہو۔آنحضرت یہ دیکھتے ہی باپ اور بیٹی کے درمیان حائل ہو گئے اور حضرت ابو بکر کی متوقع سزا سے حضرت عائشہ کو بچالیا۔جب حضرت ابو بکر چلے گئے تو رسول کریم حضرت عائشہ سے از راہ تلفن فرمانے لگے۔دیکھا آج ہم نے تمہیں تمہارے ابا سے کیسے بچایا ؟ کچھ دنوں کے بعد حضرت ابو بکر دوبارہ تشریف لائے تو آنحضرت کے ساتھ حضرت عائشہ ہنسی خوشی با تیں کر رہی تھیں۔حضرت ابو بکر کہنے لگے دیکھو بھئی تم نے اپنی لڑائی میں تو مجھے شریک کیا تھا اب خوشی میں بھی شریک کرلو۔(ابوداؤد )58 حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم کے ساتھ ایک دفعہ کچھ تکرار ہوگئی آپ فرمانے لگے کہ تم کسی کو ثالث بنالو۔کیا عمر بن الخطاب ثالث منظور ہیں؟ حضرت عائشہ نے کہا نہیں وہ سخت اور درشت ہیں۔آپ نے فرمایا اچھا اپنے والد کو ثالث بنالو۔کہنے لگیں ٹھیک ہے تب رسول اللہ نے حضرت ابو بکر کو بلوا بھیجا اور بات شروع کی کہ عائشہ کی یہ بات یوں ہوئی۔میں نے کہا آپ اللہ سے ڈریں اور سوائے سچ کے کچھ نہ کہیں۔اس پر حضرت ابو بکڑ نے زور سے مجھے تھپڑ رسید کیا اور فرمانے لگے تمہاری ماں تمہیں کھوئے تم اور تمہارا باپ بچ بولتے ہو اور خدا کا رسول حق نہیں کہتا اس تھپڑ کے