اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 455 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 455

455 اہلی زندگی میں رسول کریم کا بہترین نمونہ اسوہ انسان کامل تجھے اپنے سارے ناموں اور صفتوں کا واسطہ۔ان صفتوں کا بھی جو مجھے معلوم ہیں اور ان کا بھی جو میں نہیں جانتی کہ تو اپنی اس بندی کے ساتھ عفو کا سلوک فرما۔حضرت عائشہ یہ دعا کر رہی ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پاس بیٹھے دیکھتے جاتے اور مسکراتے جاتے ہیں اور فرماتے ہیں اے عائشہ بے شک وہ صفت انہی صفات میں سے ہے جو تم نے شمار کر ڈالیں۔(ابن ماجہ ) 53 قیام توحید بیویوں کے دل میں توحید باری کی عظمت کے قیام کا خیال آپ کو بوقت وفات بھی تھا۔آپ کی آخری بیماری میں جب کسی بیوی نے حبشہ کے ایک گرجے کا ذکر کیا جو ماریہ (حضرت مریم ) کے نام سے موسوم تھا تو اپنی بیماری کی تکلیف دہ حالت میں بھی آپ نے بیویوں کی توجہ تو حید باری کی طرف مبذول کراتے ہوئے فوراً گفتگو کا رخ دوسری طرف موڑ دیا اور فرمایا ”بر ا ہوان یہودیوں اور عیسائیوں کا جنہوں نے اپنے نبیوں اور بزرگوں کے مزاروں کو سجدہ گاہیں بنالیا۔“ ( بخاری )54 گویا با الفاظ دیگر اپنی وفات کو قریب جانتے ہوئے آپ بیویوں کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ دیکھو تم لوگ میری قبر کو شرک گاہ نہ بنادینا میرے بعد تو حید پر قائم رہنا۔محتمل و ایثار جہاں ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو جذ بہ غیرت کا پیدا ہو جانا ایک طبعی امر ہے۔آنحضرت کے لئے ایک اہم اور نازک مسئلہ یہی ہوسکتا تھا، مگر آپ اکثر و بیشتر اس کا مداوا اور حل خود تکلیف اٹھا کر اور اپنی ذاتی قربانی کے ذریعہ سے تلاش کر لیا کرتے۔ایک دفعہ آپ کی باری حضرت عائشہ کے ہاں تھی۔کسی اور بیوی نے کچھ کھانا تحفتہ وہاں بھجوادیا۔حضرت عائشہ کی رسول اللہ سے محبت اور طبعی غیرت نے یہ گوارا نہ کیا کہ ان کی باری میں کوئی اور بیوی حضور کی خدمت کا شرف پائے۔انہوں نے غصے میں وہ کھانے سے بھرا پیالہ زمین پر دے مارا۔کھانا گر گیا، پیالہ ٹوٹ کر بکھر گیا۔کھانا لانے والا خادم پاس حیران کھڑا ہے۔رسول کریم بھی یہ سب تماشا کمال تحمل سے دیکھ رہے ہیں۔مگر حضرت عائشہ پر کوئی سختی نہیں فرماتے چپکے سے اپنی جگہ سے اٹھتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے زمین پر گرا ہوا کھانا جمع کرنا شروع کرتے ہیں۔حضرت عائشہ کے لئے تو یہی کافی تھا حضور کے اس رد عمل سے یقیناً ان کو سخت ندامت ہوئی۔چنانچہ جب رسول کریم نے ان کو فرمایا کہ اے عائشہ جو پیالہ توڑا ہے۔اس کے بدلے میں اب اپنا کوئی پیالہ واپس کر دو تو حضرت عائشہ نے بخوشی اس خادم کو اپنا پیالہ دے کر رخصت کیا۔(نسائی) 55 حضرت میمونہ بیان فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول کریم کی میرے ہاں باری تھی۔آپ باہر تشریف لے گئے۔میں نے دروازہ بند کر دیا۔آپ نے واپس آکر دروازہ کھٹکھٹایا۔میں نے دروازہ کھولنے سے انکار کر دیا۔آپ نے فرمایا تمہیں