اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 421 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 421

اسوہ انسان کامل 421 رسول کریم بحیثیت منصف اعظم مسجد نبوی کے احاطہ میں ہی تھے۔حضرت عباس تکلیف سے کراہنے لگے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس کے کراہنے کی آواز سنی تو آپ کو چا کی تکلیف کی وجہ سے بے چینی سے نیند نہ آتی تھی۔انصار کو کسی طرح اس کا علم ہو گیا انہوں نے عباس کی مشکیں ڈھیلی کر دیں۔حضور کو پتہ چلا تو فرمایا کہ سب کی مشکیں ڈھیلی کر دو۔انصار نے رسول اللہ کی حضرت عباس سے محبت کو دیکھ کر حضور کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر عرض کیا حضور ہم عباس کا فدیہ معاف کرتے ہیں۔ان کو قید سے آزاد کر دیا جائے مگر رسول کریم نے اُن کی یہ پیش کش قبول نہ فرمائی اور حضرت عباس سے فرمایا کہ اپنا اور اپنے بھائی عقیل ، نوفل نیز اپنے حلیف عقبہ کا بھی فدیہ دیں کیونکہ آپ مالدار ہیں۔حضرت عباس نے عرض کیا کہ حضور میں تو مسلمان تھا مگر مشرک مجھے مجبور کر کے بدر میں لے آئے۔حضور نے فرمایا یہ تو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے اور اگر یہ درست ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی جزا دے گا۔لیکن چونکہ آپ بظاہر دیگر قیدیوں کی طرح ہمارے خلاف جنگ کیلئے آئے تھے اس لئے فدیہ دینا ہو گا۔چنانچہ انہوں نے چالیس اوقیہ فدیہ ادا کیا۔( مینی )7 یہود مدینہ کے عادلانہ فیصلے یہود کے قبائل بنونضیر اور بنو قریظہ میں سے بنونضیر زیادہ معزز سمجھے جاتے تھے۔چنانچہ جب بنو قریظہ کا کوئی آدمی بنونضیر کے کسی آدمی کوقتل کرتا تو وہ قصاص میں قتل کیا جاتا اور جب بنونضیر کا کوئی آدمی بنوقریظہ کے کسی آدمی کوقتل کرتا تو اس کی دیت سودسق کھجورا دا کر دی جاتی۔نبی کریم کی مدینہ تشریف آوری کے بعد ایک نفیری نے قمر ظلی کو قتل کر دیا۔بنوقریظہ نے قصاص کا مطالبہ کیا اور اپنا ثالث رسول کریم کو مقرر کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضور نے جاہلیت کے طریق کے برخلاف اس قرآنی ارشاد پر عمل فرمایا کہ وَإِن حَكَمْتَ فَاحْكُمُ بَيْنَهُمُ بِالْقِسْطِ (سورة المائدة : 43) یعنی ” جب تو ان یہود کے درمیان فیصلہ کرے تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کر۔چنانچہ آپ نے جان کے بدلے جان کا منصفانہ فیصلہ صادر فرمایا۔(ابوداؤد )8 ایک دفعہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کے قیمتی زیور دیکھ کر اسکا سر پتھر کے ساتھ کچل کر قتل کر دیا۔مقتولہ کو نبی کریم کے پاس لایا گیا۔اس میں کچھ جان باقی تھی۔آپ نے اس سے ایک شخص کا نام لے کر پوچھا کہ فلاں نے تمہیں قتل کیا ہے؟“ اس نے سر کے اشارہ سے کہا نہیں، پھر آپ نے دوسرے کا نام لیا تو اس نے نفی میں جواب دیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے یہودی شخص کا نام لیا۔اس نے سر ہلا کر اثبات میں جواب دیا۔آپ نے اس یہودی کو بلا کر پوچھا تو اس نے قتل کا اعتراف کر لیا۔چنانچہ اس شخص کو قصاص میں قتل کیا گیا۔( بخاری )9 یہودی کے حق میں ڈگری عبد اللہ بن ابی حدر والا سلمی بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی کا ان کے ذمے چار درہم قرض تھا جس کی میعاد ختم ہوگئی۔اس یہودی نے آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ اس شخص کے ذمے میرے چار درہم ہیں اور یہ مجھے ادا