اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 420 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 420

420 اسوہ انسان کامل رسول کریم بحیثیت منصف اعظم کپڑے میں رکھ دیا اور قریش کے مختلف قبائل کے سرداروں کے نمائندوں کو بلایا۔انہوں نے اس کپڑے کو تمام اطراف سے پکڑا اور اس کی جگہ پر لے گئے۔پھر حضور نے وہ پتھر اٹھا کر اس کے اصل مقام پر رکھ دیا۔( احمد )2 آداب قضا حضرت ابو بکر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ کوئی منصف غصہ کی حالت میں دو فریق کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔( بخاری )3 حضرت علی ابن ابی طالب بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم نے مجھے یمن میں قاضی بنا کر بھیجا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ مجھے یہ اہم ذمہ داری دے رہے ہیں اور میں تو کم عمر نو جوان ہوں جسے قضا کا کوئی تجربہ نہیں آپ نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ تیرے دل کو خود رہنمائی فرمائے گا اور تیری زبان کو سچائی پر درستی سے قائم کر دے گا۔جب تمہارے سامنے فریقین مقدمہ بیٹھیں تو ان کے مقدمہ کا فیصلہ اس وقت تک نہ کرنا جب تک دونوں فریق سے پوری بات نہ سن لو جس طرح پہلے فریق سے سنی۔یہ طریق زیادہ مناسب ہے جس کے نتیجہ میں فیصلہ تجھ پر کھل جائے گا۔حضرت علی کہتے ہیں اس کے بعد میں قاضی رہا لیکن کسی فیصلہ کے بارہ میں کبھی شک نہیں ہوا۔(ابوداؤد )4 حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا کہ تم لوگ میرے پاس جھگڑا لے کر آتے ہو اور تم میں سے ایک فریق اپنا معاملہ اور دلیل بیان کرنے میں زیادہ طاقت رکھتا ہے اور میں اس کے بیان کے مطابق فیصلہ کر دیتا ہوں۔ایسا شخص جسے اپنے بھائی کا حق ناجائز طور پر فیصلہ میں مل جائے وہ اسے ہرگز نہ لے کیونکہ وہ آگ کا ایک ٹکڑا فی ہے۔(بخاری)5 اولاد میں عدل حضرت نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں کہ میرے والد مجھے نبی کریم کے پاس لے گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میں نے نعمان کو اپنا فلاں مال حبہ کیا ہے آپ اس پر گواہ ہو جائیں۔نبی کریم نے فرمایا کیا سب بیٹوں کو ہی ایسا ہی مال دیا ہے۔انہوں نے کہا نہیں۔آپ نے فرمایا پھر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنالو نیز فرمایا کیا یہ بات تمہیں اچھی لگتی ہے کہ تمہاری اولاد تم سے حسن سلوک میں برابر ہوں۔میرے والد نے کہا ہاں۔آپ نے فرمایا پھر ان کو مال دینے میں بھی عدم مساوات مناسب نہیں۔( بخاری )6 قیدیوں کے ساتھ عدل مشرکین مکہ کے جنگ بدر کے قیدیوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بھی تھے۔قیدیوں کی نگرانی جب حضرت عمر کے سپرد ہوئی تو انہوں نے حضرت عباس قسمیت تمام قیدیوں کی مشکیں اچھی طرح کس دیں۔جو