اسوہء انسانِ کامل — Page 419
اسوہ انسان کامل 419 رسول کریم بحیثیت منصف اعظم اہلی زندگی میں عدل کا تقاضا یہ ہے کہ میاں بیوی فحشاء سے بچیں۔(سورۃ الانعام: 152) 5 روئے زمین پر زندہ رہنے کی خواہش رکھنے والے ہر شخص کا دیگر بنی نوع انسان کے ساتھ عدل یہ ہے کہ ہر انسان کے کم از کم زندہ رہنے کا حق تسلیم کیا جائے۔اور ناحق کسی کو قتل نہ کیا جائے۔معاشی عدل کا تقاضا کمزور طبقات اور یتامی کے اموال کی حفاظت ہے نیز ماپ تول پورا ہو اور اس میں انصاف سے کام لیا جائے۔(سورۃ الانعام : 153) گفتگو میں بھی عدل کا حکم ہے۔یعنی اس میں سچائی ہو خواہ وہ بیچ قریبی رشتوں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔گفتگو میں بے اعتدالی نہ ہو۔برمحل ہو اور اس میں کسی پر زیادتی نہ ہو۔(سورۃ الانعام : 152,153) 8 تحریری معاہدات میں بھی عدل کی تعلیم دی گئی ہے۔(سورۃ البقرۃ : 283) و دشمنوں کے ساتھ بھی عدل کا حکم دیا گیا۔(سورۃ المائدۃ:9) 10 حاکموں کو رعایا سے عدل کا حکم ہے۔(سورۃ النساء :59) 11 بین الاقوامی امن کے قیام کے لئے بھی عدل کو بروئے کار لایا جائے۔اور تمام قومیں ظالم قوم پر دباؤ ڈال کر بین الاقوامی امن کے قیام کی سعی کریں۔الغرض رسول اللہ کی پاکیزہ بے نظیر تعلیم عدل کے ذریعہ تمام دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیا گیا۔مگر اس کے لئے ضروری تھا کہ آپ کا سینہ و دل بھی عدل سے لبریز ہوں، اور بلاشبہ بچپن سے ہی آپ کی طبیعت اور مزاج ہی عادلانہ تھا۔اور اللہ تعالیٰ نے آغاز سے اپنی خاص قدرت سے آپ کو کمال عدل پر قائم رکھا۔فطری عدل رسول اللہ کی رضاعی ماں حضرت حلیمہ سعدیہ بیان کرتی تھیں کہ جب محمد کو دودھ پلانے کے لئے میں نے گود میں بٹھا لیا تو دائیں پہلو سے آپ دودھ پی لیتے بائیں پہلو سے نہ پیتے۔آپ کے ساتھ حلیمہ کے بیٹے اور رضاعی بھائی بھی دودھ پیتے تھے اور وہ دوسرے پہلو سے دودھ نہ پیتے تھے۔(الحلبیہ )1 ہر چند کہ بے شعوری کے اس دور میں آپ کا یہ فعل ارادتا نہ بھی ہو مگر اس کے پیچھے ایک مقتدر بالا رادہ ہستی کی قدرت نظر آتی ہے، وہی قدرت جس نے نوزائیدہ حضرت موسی کو (جب فرعون کی بیوی نے انہیں سمندر سے اٹھایا ) کسی بھی دودھ پلانے والی کا دودھ نہیں پینے دیا سوائے ان کی ماں کے۔حضرت سائب بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں جب خانہ کعبہ کی تعمیر ہوئی تو وہ اس میں شامل تھے اس دوران جب حجر اسو در رکھنے کا موقع آیا تو قریش کے قبائل آپس میں جھگڑ پڑے کہ ہم یہ پتھر اپنی جگہ پر رکھیں گے۔بالآخر ثالثی فیصلے پر اتفاق رائے ہوا اور انہوں نے کہا کہ سب سے پہلا شخص جو صبح آئے گا وہ ثالث ہوگا۔صبح نبی کر یم اے تشریف لائے تو سب لوگوں نے کہا کہ ' امین آ گیا۔اور آپ کے سامنے معاملہ پیش کیا گیا۔آپ نے پتھر کو ایک