اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 408 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 408

408 جنگوں میں رسول اللہ ﷺ کی حکمت عملی اسوہ انسان کامل پر پڑی جہاں سے دشمن کے حملے کا خطرہ ہو سکتا تھا۔آپ نے وہاں پچاس تیرانداز حضرت عبد اللہ بن جبیر کی سرکردگی میں مقرر فرمائے اور انہیں ہدایات دیتے ہوئے موقع کی نزاکت دیکھ کر یہاں تک فرمایا کہ اگر تم دیکھو کہ پرندے ہماری لاشوں کو اچک رہے ہیں پھر بھی تم نے در نہیں چھوڑ نا سوائے اس کے کہ میرا پیغام تمہیں پہنچے۔بعد کے حالات سے ظاہر ہے کہ اسی ہدایت کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کو سخت تکلیف اور نقصان اٹھانا پڑا۔( بخاری )8 غزوہ اُحد میں درہ کو خالی پا کر دشمن کے حملہ کے نتیجہ میں کئی مسلمان شہید ہو چکے تھے اور دشمن کے حملہ کا سارا زور نبی کریم اور آپ کے بزرگ اصحاب پر تھا۔یہاں تک کہ رسول اللہ کی شہادت کی خبر مشہور ہوگئی اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی کی حکمت عملی اختیار فرمائی تا کہ اسلامی قیادت اور باقی مسلمانوں کی حفاظت کی جاسکے۔حضرت کعب بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلے میں نے رسول اللہ کو ( درہ میں خود پہنے) پہچان کر کہا یہ رسول اللہ ہیں۔نبی کریم نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا پھر از راہِ مصلحت اپنی زرہ مجھے پہنائی اور میری زرہ خود پہن لی۔مجھ پر حملہ کرنے والا یہی سمجھتا تھا کہ وہ رسول اللہ پر حملہ کر رہا ہے۔اس موقع پر جب ابوسفیان نے خوشی کے نعرے لگائے کہ ہم نے محمد ﷺ کوقتل کر دیا۔ابوبکر کو تل کر دیا تو رسول اللہ نے اسی حکمت عملی کی بناء پر مسلمانوں کونعروں کا جواب دینے سے روک دیا گیا۔البتہ بعد میں کفار مشر کا نہ تعلی کے نعروں کے جواب میں توحید کے نعرے خود لگوائے۔( بیشمی )9 غزوہ احد سے واپسی پر ابوسفیان کو خیال آیا کہ نہ تو اس جنگ میں کوئی قیدی بنائے نہ ہی مال غنیمت لوٹا مکہ جا کر کیا منہ دکھائیں گے اور اس نے مدینہ پر دوبارہ حملہ کا ارادہ کیا۔حضور کو پتہ چلا تو آپ نے لشکر ابوسفیان کا تعاقب کرنے کا ارادہ فرمایا۔ادھر حالت یہ تھی کہ ستر مسلمان شہید ہو چکے، باقی اکثر زخمی تھے۔بظاہر ایک جیتے ہوئے لشکر کے تعاقب کا ارادہ مسلمانوں کیلئے بھاری امتحان تھا۔لوگ متذبذب تھے۔تب حضور نے دوٹوک الفاظ میں اپنے اس عزم کا یوں اظہار فرمایا کہ اگر دشمن کے تعاقب کیلئے ایک شخص نے بھی میر اساتھ نہ دیا تو میں تن تنہا ابوسفیان کے تعاقب کو جاؤں گا اور ضرور جاؤں گا۔پھر کیا تھا وہ صحابہ بھی جو زخموں سے نڈھال تھے لبیک کہتے ہوئے اس مہم کیلئے یوں دیوانہ وار تیار ہو گئے کہ عرش کے خدا نے بھی ان کی تعریف کی۔( بخاری )10 غزوہ احزاب میں حکمت عملی 5ھ میں یہود مدینہ کی سازش کے نتیجہ میں ابوسفیان تمام عرب قبائل کو جنگ کے لئے آمادہ کر کے دس ہزار لشکر کے ساتھ مدینہ پر حملہ کیلئے تیار ہو کر چلا تو مسلمانوں کے حلیف بنو خزاعہ نے ایک تیز رفتار قاصد کے ذریعہ مدینہ اطلاع کر دی۔رسول اللہ نے اپنے اصحاب سے مشاورت کے بعد حضرت سلمان فارسی کے مشورے کے مطابق مدینہ کے شمال میں جہاں سے حملہ کا خطرہ ہوسکتا تھا ایک خندق تیار کروانے اور محصور ہو کر اپنے دفاع کا فیصلہ فرمایا۔کیونکہ مدینہ کے مشرق و مغرب میں پتھر یلے میدان اور جنوب میں کھجور کے باغات اور عیر پہاڑ کی روک موجود تھی۔محدود وقت میں شمالی جانب ایک طویل خندق کی کھدائی بہت کٹھن کام تھا۔لیکن رسول اللہ کی فراست و بصیرت اور دعاؤں سے یہ کام آسان ہو گیا۔آپ نے دس دس افراد کی ٹولیوں کے ذمہ 40 فٹ خندق کی کھدائی لگائی۔اور بنفس نفیس موقع پر اس کی نشاندہی فرمائی۔( حاکم )11