اسوہء انسانِ کامل — Page 398
اسوہ انسان کامل 398 غزوات النبی میں خلق عظیم خلاف سخت بکواس کرتا اور ہجو کہتا تھا۔مگر اس کا اصل جرم جس کی بناء پر یہ واجب القتل ٹھہرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی پر قاتلانہ حملہ تھا۔چنانچہ ہجرت مدینہ کے بعد جب آپ کے چا حضرت عباس نے حضور ﷺ کی صاحبزادیوں حضرت فاطمہ اور حضرت ام کلثوم کو مکہ سے مدینہ بھجوانے کیلئے اونٹ پر سوار کروا کے روانہ کیا۔اس بد بخت نے چھپ کر قاتلانہ حملہ کیا اور ان کو اونٹ سے گرا دیا۔حضرت علی نے اسے فتح مکہ کے موقع پر حسب فیصلہ اس کے جرائم کی پاداش میں قتل کیا۔(الحلبیہ (85 86 تیسرا مجرم تير شخص مقيس بن شبابہ تھا، اسے اس لئے واجب القتل قرار دیا گیا تھا کہ اس نے مدینہ میں ایک انصاری کو قتل کیا تھا جس کے بعد وہ مرتد ہو کر قریش سے جا ملا۔(ابن ھشام دراصل مقیس مسلمان ہوا اور اپنے بھائی ہشام بن ضبابہ کی دیت کا تقاضا کیا جسے ایک انصاری نے غزوہ قرد میں دشمن کا آدمی سمجھ کر غلطی سے قتل کر دیا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بھائی کی دیت اسے ادا فرمائی۔ویت وصول کر لینے کے بعد اس نے پھر اس انصاری کو انتقا ما قتل کیا اور مرتد ہو کر اہل مکہ سے جاملا۔اسے بھی انصاری کے قتل کے قصاص میں فتح مکہ کے موقع پر قتل کیا گیا۔(الحلبیہ ( 87 ان تین مجرموں کے علاوہ باقی تمام وہ مجرم جو واجب القتل قرار دیئے گئے جب معافی کے طالب ہوئے اور امان چاہی تو رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انہیں معاف فرما دیا۔چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ کے عفو عام کے اس اعلان کے بعد مرتد عبد اللہ بن سعد کاتب وحی کو بھی معافی مل گئی ، رسول اللہ کی صاحبزادی زینب پر حملہ کر کے حمل ساقط کرنے والا ہبار بھی بخشا گیا۔سردارانِ مکہ ابو جہل کے بیٹے عکرمہ اور صفوان بن امیہ کو حالت شرک میں رہتے ہوئے امان نامہ عطا ہوا۔حمزہ کا کلیجہ چبانے والی ھند کے لئے بھی عفو کا حکم صادر ہوا۔حارث اور زہیر جو اپنے جرائم کی پاداش میں واجب القتل ٹھہرائے گئے تھے، ایک مسلمان عورت کی امان دینے پر معاف کئے گئے۔(ان سب کی تفصیل عفو و کرم کے مضمون میں بیان ہے) الغرض فتح مکہ کے موقع پر صرف چار مجرموں کو سزائے موت دیکر باقی سب کو معاف کر دینا تاریخ عالم کا منفرد واقعہ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ان بے نظیر احسانات کا نظارہ دیکھ کر مشہور مستشرق سرولیم میور بھی انگشت بدنداں ہے۔چنانچہ وہ لکھتا ہے:۔اشتہاریان قتل تعداد میں تھوڑے ہی تھے اور شاید وہ سارے ہی اپنے جرائم کی وجہ سے انصاف کے مطابق قتل کے لائق تھے (سوائے ایک مغنیہ کے قتل کے باقی سب کا قتل سیاسی عناد کی بجائے ان کے جرائم کی بنیاد پر تھا) محمد کا یہ حیرت انگیز کردار بے مثال فیاضی اور اعتدال کا نمونہ تھا۔لیکن محمد نے جلد ہی اس کا انعام بھی لے لیا اور وہ یوں کہ آپ کے وطن