اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 391 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 391

391 اسوہ انسان کامل غزوات النبی میں خلق عظیم گردنیں کاٹ کر بلال کا انتظام نہیں لیا بلکہ بلال جو کبھی مکہ کی گلیوں میں ذلت اور اذیت کا نشان رہ چکا تھا۔آج نبی کریم نے اسے اہل مکہ کے لئے امن کی علامت بنا دیا۔بلال کے دشمنوں کو بھی معاف کر دیا اور بلال کے جذبات کا بھی خیال رکھا۔میں سوچتا ہوں وہ کیا عجیب منظر ہو گا جب بلال یہ منادی کرتا ہوگا کہ اے مکہ والو! بلالی جھنڈے کے نیچے آجاؤ تمہیں امن دیا جائے گا اور یہ کتنا بڑا فخر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو بخشا کہ اس پر ظلم کر نیوالے اس کی پناہ میں آنے سے بخشے جائیں گے۔یہ پاک نمونہ بلاشبہ شرف انسانی کے قیام کی زبردست علمی شہادت ہے۔خون خرابہ سے بچنے کی کوشش رسول کریم نے مکہ میں داخل ہوتے وقت اپنے جرنیلوں کو بھی حکم دیا کہ کسی پر حملے میں پہل نہیں کرنی اور اس وقت تک جنگ شروع نہیں کرنی جب تک لڑائی تم پر مسلط نہ کر دی جائے۔آپ خود مکہ کی بالائی جانب اس مقام سے شہر میں داخل ہوئے جہاں ابوطالب اور حضرت خدیجہ کی قبریں ہیں اور یوں فتح کے موقع پر بھی مصیبت کے زمانہ کے مددگاروں کو یا درکھا۔نبی کریم نے اپنے کہنہ مشق جرنیل خالد بن ولید کو ملکہ کی زیریں شمالی جانب سے داخلے کا ارشاد فرمایا جہاں عکرمہ بن ابی جہل اور اس کے ساتھیوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا اس مزاحمت میں مسلمانوں کے دو آدمی شہید ہو گئے۔(بخاری) 65 قریش کے جو آدمی مارے گئے ان کی تعداد دس سے اٹھائیس تک بیان کی جاتی ہے۔اگر کفار کی طرف سے مزاحمت نہ ہوتی تو یہ خون بھی نہ بہتا۔(الحلبیہ ( 66 سر ولیم میور نے بھی لکھا ہے کہ محمد نے لشکر کو چار حصوں میں تقسیم کر کے مختلف راستوں سے شہر میں داخلہ کا حکم دیا اور تختی سے ہدایت کی کہ سوائے انتہائی مجبوری اور خود حفاظتی کے جنگ نہیں کرنی۔( میور 67) اسی ہدایت کا نتیجہ تھا کہ فتح مکہ کے موقع پر چند گنتی کے مشرک مارے گئے۔مگر اتنی بڑی فتح پر اتنے کم جانی نقصان ہو جانے کا بھی آنحضرت مہ کوخت افسوس تھا۔(ابن ہشام )68 آپ نے اپنے جرنیل خالد بن ولید کو بلا کر اس کی جواب طلبی فرمائی کہ حتی الامکان از خود حملہ نہ کرنے کی ہدایت کے با وجود پھر یہ خون کیوں ہوا اور جب آپ کو حقیقت حال کا علم ہوا تو ہمیشہ کی طرح یہ کہہ کر راضی برضا ہوئے کہ منشا الہی یہی تھا۔( الحلبیہ (69 فتح مکہ پر عجز وانکسار کا عجیب منظر ہمارے سید ومولا کے شہر میں داخل ہونے کا منظر بھی دیکھنے کے لائق تھا۔شہر کا شہر اس عظیم فاتح کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے بے تاب اور منتظر تھا۔اہل شہر سوچنتے ہونگے کہ فاتح مکہ آج فخر سے سراونچا کے شہر میں داخل ہوگا لیکن جب