اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 372 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 372

اسوہ انسان کامل 372 غزوات النبی میں خلق عظیم چھوڑنی پسند نہیں فرما ئیں بلکہ دفن کے لئے ایک پرانے گڑھے میں ڈلوادیں۔رسول اللہ نے بدر کی فتح پر کوئی جشن نہیں منایا بلکہ اپنے رب کی عظمت اور حقانیت کے نعرے ہی بلند کئے۔اپنے ساتھیوں کو بھی یاد کر وایا کہ فتح سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ بدر کا دن خدا کے وعدے پورے ہونے کا دن ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس گڑھے پر تشریف لے گئے جس میں سرداران قریش کی لاشیں تھی تو ان کا یہ عبرتناک انجام دیکھ کر افسوس اور حسرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ” کیا تمہیں یہ بات خوش کرتی ہے کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی یا اپنا یہ انجام پسند ہے۔ہم نے تو اپنے رب کے وعدوں کو سچا پا لیا۔تم نے بھی خدا کے وعدے کو سچا پایا یا نہیں ؟ ( بخاری )18 احسان کا پاس غزوات میں رسول اللہ کا احسان اور وفا کا خلق بھی بڑی شان سے ظاہر ہوا۔ایک واقعہ قریش کے مشرک سردار مطعم بن عدی کا ہے، جو بن نوفل کا سردار اور قریش کی سر بر آوردہ شخصیات میں سے تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے قبیلہ بنو ہاشم اور مسلمانوں کو شعب ابی طالب میں محصور کر کے بائیکاٹ کرنے کا جو معاہدہ لکھ کر خانہ کعبہ میں لٹکایا گیا تھا، اس کو ختم کرانے کی مہم میں مطعم نے نمایاں خدمت انجام دی تھی۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ والوں سے مایوس ہو کر تبلیغ اسلام کے لئے طائف تشریف لے گئے تھے تو عرب کے دستور کے مطابق آپ کو مکہ میں واپس آنے سے پیشتر کسی سردار کی پناہ میں آنا ضروری تھا، جسے جوار یعنی پناہ کہتے تھے۔رسول اللہ نے کئی سرداروں کو پناہ لینے کے لئے پیغام بھیجا، سب نے انکار کیا، مطعم بن عدی وہ تشریف النفس سردار تھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں دوبارہ داخلہ کے لئے اپنی پناہ دی۔اس کے چاروں بیٹے تلواروں کے سایہ میں رسول اللہ کو مکہ لائے اور آپ کو امان دینے کا اعلان کیا۔افسوس کہ اس منصف مزاج سردار کو اسلام قبول کرنے کی توفیق نہ ملی اور بدر سے پہلے ہی سو سال کے لگ بھگ عمر پا کر وفات پا گیا۔بدر کی فتح کے بعد جب ستر مشرکین مکہ بطور قیدی مسلمانوں کے ہاتھ آئے تو نبی کریم اُس وقت بھی مطعم بن عدی کا احسان نہیں بھولے اور فرمایا " اگر آج مطعم زندہ ہوتا اور ان قیدیوں کو آزاد کرنے کے لئے مجھے سفارش کرتا تو میں ان تمام قیدیوں کو اس کی خاطر آزاد کر دیتا۔“ ( مینی )19 سر ولیم میور اپنی کتاب لائف آف محمد میں مسلمانوں کے اسیران بدر کے ساتھ سلوک کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔"In pursuance of Mahomet's commands, the citizens of Medina, and such of the refugees as already had houses of their own, received the prisoners, and treated them with much consideration۔'Blessings be on the men of Medina!'said one of these prisoners in later days: 'they made us ride, while they themselves walked: they gave us wheaten bread to eat when there was