اسوہء انسانِ کامل — Page 371
اسوہ انسان کامل 371 غزوات النبی میں خلق عظیم رض کچھ دعا کر دیں۔آپ نے دعا کی کہ اے اللہ ! ابو موسیٰ کے گناہ بخش دے اور قیامت کے دن اسے معزز مقام میں داخل کرنا۔( بخاری ) 15 دعاؤں پر بھروسہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام فتوحات دراصل دعاؤں کا نتیجہ تھیں (جیسا کہ قبولیت دعا کے مضمون میں تفصیل سے ذکر ہو چکا ہے )۔بدر کی دعا میں غیر معمولی شغف اور توجہ کا ذکر حضرت علی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ بدر میں کچھ دیر لڑنے کے بعد مجھے خیال آیا کہ دیکھوں رسول اللہ کا کیا حال ہے آکر دیکھا تو آپ سجدے میں پڑے ہوئے اپنے مولیٰ کے حضور مسلسل گریہ وزاری کر رہے تھے۔"یا حی یا قیوم یعنی اے زندہ ہستی خود قائم اور دوسروں کو قائم رکھنے والے!“ آپ یہی پڑھتے جاتے تھے اور اس سے زیادہ کچھ نہ کہتے تھے۔میں پھر جا کر لڑائی میں مشغول ہو گیا۔تھوڑی دیر بعد پھر حضور کا خیال آیا اور آپ کا پتہ کرنے لوٹا تو آپ اسی حالت میں سجدہ میں پڑے خدا کو اس کی صفت حی و قیوم کے واسطے دے رہے تھے۔میں پھر میدان کارزار میں چلا گیا اور تیسری با رواپس لوٹا تو بھی آپ کو اسی حالت میں دعا کرتے پایا۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کے طفیل ہمیں فتح عطا فرمائی۔( ھیثمی ) 16 کامیابی پر حمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب جنگ میں کامیابی حاصل ہوتی تو بھی کسی بڑائی کے اظہار کی بجائے خدا کی حمد بجالاتے۔اور اسی کی کبریائی اور عظمت کے نعرے بلند کرتے تھے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ ابو جہل کو قتل کرنے اور اس پر آخری وار کرنے کے بعد میں نے نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہو کر اطلاع کی کہ ابو جہل ہلاک ہو چکا ہے۔آپ نے اس وقت بھی نعرہ توحید بلند کیا اور فرمایا کیا اللہ تعالیٰ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں؟ میں نے اثبات میں جواب دیا کہ بے شک اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔پھر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابو جہل کی نعش کے پاس جا کر کھڑے ہوئے تو فرمایا’ اس خدا کی سب تعریف ہے جس نے اے اللہ کے دشمن ! تجھے ذلیل کیا۔پھر فرمایا کہ یہ اس امت کا فرعون تھا (طبرانی) 17 نبی کریم یہ فتح کے موقع پر کسی بڑائی کے اظہار کی بجائے شکر بجالاتے ہوئے اپنے مولیٰ کے حضور عجز وانکسار سے جھک جاتے۔بدر کی فتح مسلمانوں کے لئے پہلی بہت بڑی فتح تھی۔جس نے کفار کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ان کے ستر آدمی ہلاک ہوئے ، جن میں چوبیس سرداران قریش تھے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنوں کی نعشیں بھی کھلے میدان میں