اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 365 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 365

اسوہ انسان کامل 365 غزوات النبی میں خلق عظیم غزوات النبی میں خلق عظیم اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے اور عام حالات میں جنگ وجدال سے منع کرتا ہے، تاہم جب دشمن حملہ آور ہوکر آجائے تو انسانوں کو اپنے دفاع کا حق مکمل ہے۔بانی اسلام کو بھی ایسی دفاعی جنگوں کا سامنا کرنا پڑا۔نبی کریم نے ایک سپاہی کے طور پر بھی غزوات میں حصہ لیا اور دفاعی جنگوں میں بطور جرنیل اپنے لشکر کی کمان کر کے میں کمان بھی کامل نمونہ پیش کیا۔جنگوں میں اکثر فتح پائی اور کبھی ساتھیوں کے پاؤں اکھڑ بھی گئے۔مگر ہمیشہ اور ہر حال میں آپ کے پاکیزہ اخلاق نئی شان کے ساتھ ظاہر ہوئے۔ہمارے سید و مولا حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مکارم اخلاق کی یہی عظمت ہے کہ وہ ہر قسم کے حالات میں اپنے نئے حسین جلوے دکھاتے نظر آتے ہیں۔حالت امن ہو یا جنگ، مشکلات کے پہاڑ اور مصائب کے طوفان اس کوہ استقامت کو ہلا نہیں سکتے۔فتوحات اور کامرانیوں کے نظارے اس کوہ وقار میں ذرہ برابر جنبش پیدا نہیں کر سکتے۔تکلف اور تصنع سے پاک ایسے کامل اور بچے اخلاق میں بلا شبہ خدائی شان جلوہ گر نظر آتی ہے اور ہر صاحب بصیرت انسان بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ اے آقا تیرے روشن و تاباں چہرے میں ایسی شان اور عظمت ہے جو انسانی شمائل اور اخلاق سے کہیں بڑھ کر ہے۔رسول اللہ کے خلق عظیم کا طرہ امتیاز ہمیشہ یہ رہا کہ آپ ہر امکانی حد تک فساد سے بچتے اور ہمیشہ امن کی راہیں اختیار کرتے تھے۔مکے کا تیرہ سالہ دور ابتلا گواہ ہے کہ آپ اور آپ کے صحابہ نے سخت از بیتیں اور تکالیف اٹھائیں لیکن صبر پر صبر کیا۔جانی اور مالی نقصان ہوئے پر برداشت کئے اور مقابلہ نہ کیا۔اپنے مظلوم ساتھیوں سے بھی یہی کہا کہ إِنِّي أُمِرْتُ بِالعَفْوِ فَلَا تُقَاتِلُوا کہ مجھے عضو کا حکم ہوا ہے۔اس لئے تم لڑائی سے بچو۔(نسائی) پھر جب دشمن نے شہر مکہ میں جینا دو بھر کر دیا۔آپ کے قتل کے منصوبے بنائے تو آپ اور آپ کے ساتھیوں نے عزیز واقارب اور مال و جائیداد کی قربانیاں دے کر دکھی دل کے ساتھ وطن کو بھی خیر باد کہ دیا اور مدینے میں پناہ لی۔دشمن نے وہاں بھی چین کا سانس نہ لینے دیا۔اہل مکہ مسلمانانِ مدینہ پر حملہ آور ہونے لگے۔تب ہجرت مدینہ کے ایک سال بعد اذن جہاد کی وہ آیت اتری جس میں مظلوم مسلمانوں کو اپنے دفاع اور مذہبی آزادی کی خاطر تلوار اٹھانے کی اجازت دی گئی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ الله عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ۔( سورة الحج: 40) وہ لوگ جن سے ( بلا وجہ ) جنگ کی جارہی ہے اُن کو بھی (جنگ) کرنے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور اللہ ان -