اسوہء انسانِ کامل — Page 311
اسوہ انسان کامل 311 نبی کریم کا انفاق فی سبیل اللہ اور جود و سخا اور غرباء کی عزت نفس قائم رکھتے ہوئے انہیں دو۔جہاں ضرورت ہو دوسروں کو تحریک کے لئے اعلانیہ بھی خرچ کرو۔(البقرہ: 275) خدا کی راہ میں کسی کو دے کر اور احسان جتا کر اپنی مالی قربانی بر باد نہ کر دو۔(البقرہ: 265) سنت رسول اور ارشادات نبوی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے اسلامی تعلیم کے مطابق اللہ تعالیٰ کی راہ میں بے دریغ اپنے اموال خرچ کرنے کا بہترین نمونہ دیا ہے۔ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حضرت عائشہ کی روایت کے مطابق عین قرآن شریف کے مطابق تھے اور آپ کی پاکیزہ سیرت انفاق فی سبیل اللہ کے بارہ میں قرآنی تعلیم کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگی اور فراخی کے دونوں زمانے دیکھے جن میں آپ کے اخلاق کھل کر دنیا کے سامنے آئے۔دونوں زمانوں میں ہی ہمیشہ آپ کی کیفیت ایسے مسافر کی سی رہی جو کچھ دیر کسی درخت کے نیچے آرام کرنے اور ستانے کے لئے ٹھہرتا ہے اور پھر اسے چھوڑ کر آگے روانہ ہو جاتا ہے۔عارضی دنیا اور اس کے اموال سے آپ کو چنداں رغبت تھی۔( بخاری )1 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ اور صحابہ کی بھی اسی انداز میں تربیت فرماتے تھے۔ایک دفعہ صحابہ کی مجلس میں ان سے مخاطب ہو کر فرمایا تم میں کوئی ایسا بھی ہے جسے (اپنے بعد میں ہونے والے ) وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ عزیز اور پیارا ہو۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے اپنا مال زیادہ پیارا نہ ہو۔آپ نے فرمایا ” تو پھر یا درکھو تمہارا اصل مال وہی ہے جو خدا کی راہ میں خرچ کر کے آگے بھجوا چکے ہو جو پیچھے باقی رہ گیا وہ وارثوں کا مال ہے۔( بخاری )2 ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری ذبح کروائی اور اس کا گوشت غرباء میں تقسیم کروایا اور بعد میں پوچھا کہ کیا اس گوشت میں سے کچھ باقی بچا ہے۔گھر والوں نے جواب دیا کہ سارا تقسیم کر دیا گیا ہے۔اپنے لئے تھوڑا سا بچا ہے۔فرمایا جو تقسیم کر دیا در اصل وہ بچ گیا ہے کہ اس کا اجر محفوظ ہو گیا اور جو بچ گیا ہے سمجھو کہ یہ ضائع ہو گیا۔(ترمذی) 3 مدینہ میں رسول اللہ کے پاس بحرین سے مال آیا تو فجر کی نماز میں کثرت سے لوگ آئے۔فرمایا ” میں تمہارے بارے میں فقر وغربت سے خائف نہیں ہوں بلکہ مجھے اندیشہ یہ ہے کہ دنیا تم پر فراخ کر دی جائے گی پھر تم کہیں پہلی قوموں کی طرح آپس میں مقابلے کرنے نہ لگ جاؤ اور اُن کی طرح تمہارا انجام نہ ہو۔“ ( بخاری )4 مال سے بے رغبتی کے بارہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رجحان اور قلبی کیفیت کا اندازہ اس بیان سے ہو سکتا ہے فرمایا:۔اگر میرے پاس اُحد کے برابر بھی سونا آ جائے تو مجھے خوشی اس میں ہوگی کہ اس پر تیسرا دن چڑھنے سے پیشتر اللہ کی راہ میں اسے خرچ کر دوں اور ضرورت سے زائد ایک دینار بھی بچا کے نہ رکھوں اور سارا مال خدا کی راہ میں دل