اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 310 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 310

اسوہ انسان کامل 310 نبی کریم کا انفاق فی سبیل اللہ اور جود و سخا نبی کریم کا انفاق فی سبیل اللہ اور جو دوسخا انفاق کی قرآنی تعلیم مذہب اور دین کی بنیادی غرض دو ہی امر ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی۔انفاق کے معنے خرچ کرنے اور لٹانے کے ہیں۔انفاق فی سبیل اللہ کا تعلق زیادہ تر حقوق انسانی کی ادائیگی سے ہے۔تاہم فقراء ومساکین کی ضروریات کے علاوہ تعلیم و تربیت اور اشاعت اسلام کے خرچ نیز ملک وقوم کے دفاع کی خاطر جہاد بالسیف کی تیاری اور اس کے اخراجات بھی اللہ کی راہ میں مالی جہاد کے قرآنی حکم کی ذیل میں آتے ہیں۔اس پہلو سے انفاق کا تعلق حقوق اللہ سے بھی ہو جاتا ہے۔اسلامی تعلیم میں زکوۃ اور صدقات پر بہت زور دیا گیا ہے۔قرآن شریف میں مومنوں کی بنیادی صفت ہی یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمایا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں (البقرۃ:4) نیز فرمایا کہ اے مومنو! تم وہ قوم ہو جو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلائے گئے ہو مگر تم میں سے بعض بخل سے کام لیتے ہیں۔پھران بخل کرنے والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ "اگر تم پھر جاؤ تو اللہ تمہاری جگہ ایک اور قوم لے آئے گا جو تمہاری طرح نہ ہوں گے۔“ (سورۃ محمد : 39) اتفاق فی سبیل اللہ کے بارہ میں قرآن شریف کی خوبصورت تفصیلی اور جامع تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو غنی اور مالک ہے۔اس کے پاس بے شمار خزانے ہیں۔اسے اموال کی کوئی ضرورت نہیں۔انسان اس کے مقابل پر فقیر اور محتاج ہیں۔اللہ تعالیٰ مومنوں کو ثواب پہنچانے اور ان کے فائدے کے لئے انہیں خرچ کرنے کی تحریک فرماتا ہے گویا ایک قسم کا قرض ہے جو بطور تجارت ان سے مانگا جاتا ہے جس کا اجر اللہ تعالیٰ سات سو گنا تک اور اس سے بھی زیادہ بڑھا کر عطا فرماتا ہے۔(سورۃ البقرۃ :262) اور خدا کی رضامندی اس کے علاوہ ہے۔جبکہ استطاعت کے با وجود خدا کی راہ میں خرچ نہ کرنا اللہ کو ناراض کرنے اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔(سورۃ محمد : 39) قرآن شریف میں انفاق فی سبیل اللہ کے آداب بھی سکھائے گئے ہیں چنانچہ فرمایا کہ اپنے پاکیزہ اموال اور بہترین کمائی میں سے خدا کی محبت کی خاطر وہ خرچ کرو جو تمہیں بہت پسند ہو۔( سورۃ آل عمران : 93) پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں کے حقوق احسان کے ساتھ ادا کر و یعنی والدین اولا د بیوی بچوں بھائی بہنوں اور دیگر رشتہ داروں سے صلہ رحمی کا سلوک کرتے ہوئے خرچ کرو۔یتامیٰ اور مساکین کے حقوق ادا کرو۔( سورۃ البقرۃ: 216) خاموشی اور راز داری سے