اسوہء انسانِ کامل — Page 301
301 آنحضرت میال بحیثیت معلم و مربی اعظم اسوہ انسان کامل مقاطعہ کر دیا گیا۔پچاس دن انہوں نے اس حالت میں کاٹے۔پھر جب ان کی معافی ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا۔رسول کریم کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔آپ نے فرمایا اے کعب ! تمہیں بشارت ہو آج تمہارے لئے ایسا دن آیا ہے کہ جب سے تم پیدا ہوئے آج تک ایسا دن تم پر طلوع نہیں ہوا۔کعب نے پوچھا یا رسول اللہ یہ خوشخبری آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے۔فرمایا اللہ کی طرف سے ہے۔کعب پر اس پر شفقت سزا کا یہ اثر تھا کہ انہوں نے رسول اللہ کے پاس سے اٹھنے سے قبل یہ عہد کیا کہ جس سچ کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ فضل فرمایا ہے میں آئندہ اس کا دامن کبھی نہ چھوڑوں گا۔اور جھوٹ سے ہمیشہ مجتنب رہوں گا۔دوسرے میں اپنا سارا مال خدا کی راہ میں بطور صدقہ پیش کرتا ہوں۔رسول کریم نے کچھ حصہ صدقہ کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔( بخاری ) 54 تربیتی حکمت عملی و مؤثر کاروائی تربیتی واخلاقی معاملات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصائح بہت گہری اور پر حکمت ہیں۔جہاں آپ نے معاشرہ کی اہم فر دعورت کے مقام اور مرتبہ کا ذکر کر کے اسے محبت کی نظر سے دیکھا وہاں بعض ممکنہ خدشات اور فتنوں کا بھی ذکر کیا جو راہ راست سے ہٹ جانے کے نتیجہ میں معاشرہ میں پیدا ہو سکتے ہیں۔چنانچہ فرمایا کہ مجھے اپنی امت پر جس سب سے بڑے فتنہ کا ڈر ہے وہ عورتوں کا فتنہ ہے۔آپ نے ان عورتوں کو جہنم کی آگ سے ڈرایا جو لباس پہنے ہوئے بھی لباس سے عاری ہوں گی اور اپنی طرف مردوں کو مائل کرنے والی اور بہت جلد انکی طرف مائل ہونگی۔(مسلم )55 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تربیتی لحاظ سے معاشرہ پر گہری نظر رکھتے تھے اور برائی کے آغاز سے پہلے اسے دبانے یا اس کے تدارک کی فکر فرماتے تھے۔نو جوانوں کی تربیت پر آپ کی خاص نظر ہوتی تھی اور انہیں انفرادی طور پر دلنشیں پیرائے میں موثر نصیحت فرماتے تھے اور مناسب عمر میں بر وقت ان کی شادی ہو جانا پسند فرماتے تھے کہ اس طرح نوجوان کئی قباحتوں سے بچ جاتے ہیں۔حضرت ابوذ ر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ کی خدمت میں عکاف بن بشر تمیمی آئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہاری بیوی ہے۔انہوں نے نفی میں جواب دیا، فرمایا کیا کوئی لونڈی ہے عرض کیا نہیں۔آپ نے فرمایا اور تم صاحب دولت و ثروت بھی ہو۔اس نے کہا جی حضور میں خدا کے فضل سے صاحب حیثیت ہوں۔آپ نے فرمایا تو پھر تم شیطان کے بھائی ہوا اور اگر تم عیسائیوں میں ہوتے تو ان کے راہبوں میں سے ہوتے۔ہماری سنت تو نکاح ہے۔تم میں سے بدترین لوگ وہ ہیں جو شادی نہیں کرتے اور اگر اسی حال میں ان پر موت آجائے تو بحالت موت بھی وہ بدترین ہیں۔شیطان کیلئے نیک لوگوں کے خلاف کوئی ہتھیار عورتوں سے زیادہ مؤثر نہیں۔البتہ شادی شدہ لوگ اس سے محفوظ ہیں۔یہی ہیں جو پاک اور نخش گوئی سے بڑی ہیں۔اے عکاف! تیرا بھلا ہو یہ عورتیں ایوب، داؤد، یوسف علیہم السلام اور کرسف کو مشکل میں ڈالنے والی تھیں۔کسی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! اگر سف کون تھا آپ نے فر ما یا ایک عابد شخص تھا