اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 300 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 300

300 آنحضرت سے بحیثیت معلم و مربی اعظم اسوہ انسان کامل نے اس کی وضاحت فرمائی۔فرمایا کہ سوائے میاں بیوی کے تعلقات کے باقی ہر طرح سے میل جول جائز ہے۔اس پر یہودی کہنے لگے یہ شخص ہر بات میں ہماری مخالفت کرتا ہے۔حضرت عباد بن بشر اور حضرت اسید بن حضیر نے آکر ذکر کیا یا رسول اللہ ! یہودی اس طرح کہتے ہیں کیا ہم ایام مخصوصہ میں بھی میاں بیوی کے تعلقات استوار کر لیں۔حضور کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا اور ہم نے خیال کیا کہ حضور ان سے ناراض ہو گئے ہیں۔وہ حضور کے پاس سے چلے گئے۔راستے میں انہوں نے حضور کی طرف دودھ کا تحفہ جاتے ہوئے دیکھا۔حضور نے یہ دودھ انہی دونوں صحابہ کیلئے بھجوادیا۔وہ دونوں کہتے تھے تب ہمیں اس بات کی زیادہ خوشی ہوئی کہ حضور ہم سے ناراض نہیں ہیں۔( احمد )52 مگر بعض بدوؤں پر اس ناراضگی کا اثر نہیں ہوتا تھا۔تب آپ صحابہ کے لئے نصیحت کا موقع نکال لیتے تھے۔ایک دفعہ ایک بد و آیا اس نے ایک نہایت اعلیٰ درجے کا جبہ پہنا ہوا تھا جس پر ریشم کا کام ہوا تھا۔وہ کہنے لگا تمہارا یہ صاحب ( یعنی نبی کریم ) ہر چرواہے کے بیٹے کو تو عزت دیتا ہے اور ہر خاندانی شہ سوار کے بہادر فرزند کو ذلیل کرتا ہے۔نبی کریم اس پر بہت ناراض ہوئے اور اس کے جبہ کو (جو اظہار بڑائی کے لئے اس نے پہن رکھا تھا) کھینچ کر فرمایا تم نے تو عقل مندوں والا لباس بھی نہیں پہنا ہوا۔پھر آپ مجلس میں تشریف فرما ہوئے اور نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ جب حضرت نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے اپنے بیٹوں کو بلا کر کہا کہ میں تمہیں ایک مختصر نصیحت کرتا ہوں۔دو باتوں کا حکم دیتا ہوں اور دو باتوں سے روکتا ہوں۔ایک تو شرک اور تکبر سے روکتا ہوں اور لا إلهَ إِلَّا الله یعنی توحید کا حکم دیتا ہوں کیونکہ آسمان وزمین اور جو کچھ اس میں ہے اگر وہ ترازو کے ایک پلڑے میں اور کلمہ لا اله الا اللہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو اس کا پلڑا بھاری ہوگا۔دوسرے میں تمہیں سُبْحَانَ اللهِ وَ بِحَمْدِہ کا حکم دیتا ہوں یہ ہر چیز کی دعا ہے۔اور اس کی برکت سے ہر چیز عطا ہوتی ہے۔( احمد ) 53 تنبیه و تادیب تربیت کی خاطر بعض دفعہ تنبیہ یا تادیب بھی ناگزیر ہو جاتی ہے۔نبی کریم کو بھی بعض مواقع پر تعزیری کاروائی کرنی پڑی مگر اس سزا میں بھی نفرت یا غصہ نہیں بلکہ شفقت و رحمت کا رنگ غالب ہوتا تھا جس کے نتیجہ میں عظیم الشان اصلاحی تبدیلیاں رونما ہوتی تھیں۔حضرت کعب بن مالک اور ان کے دو ساتھی بغیر کسی عذر کے غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔رسول اللہ کی واپسی پر انہوں نے اپنی اس غلطی کا اقرار کر لیا تو رسول کریم نے ان تینوں سے تمام صحابہ کا بول چال بند کر دیا۔کعب کہتے ہیں کہ ہم بازاروں میں پھرتے تھے مگر کوئی ہم سے کلام نہ کرتا تھا۔رسول کریم کی مجلس میں حاضر ہو کر آپ کو سلام کہتا تھا اور دیکھتا تھا کہ آپ کے ہونٹوں میں سلام کے جواب کیلئے جنبش ہوئی کہ نہیں۔پھر آپ کے قریب ہو کر نماز ادا کرتا اور چوری آنکھ سے آپ کو دیکھتا رہتا۔جب میں نماز پڑھ رہا ہوتا رسول کریم میری طرف دیکھتے رہتے اور جب میں آپ کی طرف توجہ کرتا تو آپ رُخ پھیر لیتے۔بعد میں ان تینوں اصحاب کا اُن کی بیویوں سے بھی